Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نئی حکومت اور سماج کی تقسیم: عمار مسعود کا کالم

نو اپریل کو اپوزیشن کے 174 ووٹ کے بعد عمران خان کی وزارتِ عظمٰی ختم ہوگئی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ سیاست نے ایک نئی کروٹ لی ہے اور بقول اپوزیشن ایک طویل جمہوری جدوجہد کامیاب ہوئی ہے۔ 
اس دور تاریک سے سب نے بہت سبق سیکھے۔ اسٹیبلشمنٹ نے نیوٹرل ہونے کو اپنے حق میں بہتر سمجھا۔ ن لیگ نے جمہوری مفاہمت کو اپنایا۔ پیپلز پارٹی نے باقی اپوزیشن کو گلے سے لگایا۔ ایم کیو ایم نے تاریخی فیصلہ کیا۔ مولانا فضل الرحمن جمہوریت کی اساس بن کر ابھرے۔ عدالتوں نے آئین کو سربلند کیا۔
اب یہ سب متحد ہو کر معیشت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ خارجہ تعلقات کو بہتر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ امن و امان کے مسائل کے حل کی کوشش ہو رہی ہے۔
سیاسی جماعتوں میں اتحاد و یگانگت کی فضا ابھی تک تو مثالی ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں نئی مخلوط حکومت کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔  بے شمار محاذوں پر بیک وقت لڑنا ہے۔ لیکن ان جنگجو حالات کا سامنا کرنے سے پہلے اس سماج پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ دور کا سب سے بڑا نقصان اس معاشرے کی تقسیم کا ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں زہر پھیلا ہوا ہے۔ معاشرے کے کچھ لوگوں میں وہ سوچ بھی ہے جو نہ آئین کو مانتی ہے نہ عدالت کو، نہ اخلاقیات ان کا مسئلہ ہے نہ سماجیات کا کوئی قاعدہ انہیں سمجھ آتا ہے۔
ایک ایسی نسل ہے جو دلیل کے بجائے دشنام پر بھروسہ کرتی ہے۔ جو مکالمے کے بجائے الزام پر یقین رکھتی ہے۔ جو اختلاف رائے کو جرم سجھتی ہے۔ 

نئی حکومت نے ابھی تک کابینہ نہیں بنائی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حالیہ کچھ برسوں میں میڈیا پر ایک ہی تکرار کر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ اس ملک کا واحد نجات دہندہ عمران خان ہے۔ چاہے پیٹرول کی قیمت کچھ بھی ہو، چاہے ڈالر کی قیمت کہاں تک ہی نہ پہنچ جائے، چاہے مہنگائی عوام کا بھرکس ہی کیوں نہ نکال دے۔ 22 کروڑ کے اس ملک میں ایک ہی سچا پاکستانی ہے۔ ایک ہی مسلمان ہے۔ ایک ہی مخلص قائد ہے۔ باقی سب چور، ڈاکو، کافر اور غدار ہیں۔
اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ کچھ لوگ عمران خان کی حکومت کے جانے پر آزردہ ہیں۔ وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں اپنے قائد سے محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات کا پورا حق ہے۔ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم موجود ہے۔ جلسہ گاہیں دستیاب ہیں۔
لوگوں کو اپنے جذبات کے اظہار کا بھرپور موقع ملنا چاہیے۔ یہ ان کا جمہوری حق ہے۔ اس حق کو سلب نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کا احتجاج جمہوریت کا حسن ہے۔ اس سے کاروبار جمہوریت آگے بڑھتا ہے۔ اسی طرح کے اختلاف سے وسیع تر اتفاق جنم لیتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے پشاور سے حکومت مخالف جلسوں کا آغاز کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

نئی حکومت بہت تیزی سے کاموں میں مشغول ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس سماج کی تقسیم پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ اس تقسیم کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے کچھ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
پہلی بات تو قانونی ہے کہ اگر اس طرح کے پروپیگنڈا یونٹ کسی بیرونی اشارے پر ملک میں بدامنی پیدا کر رہے ہیں تو اس کی تفتیش کر کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔
دوسری جانب جو لوگ عمران خان کے جانے سے آزردہ ہیں ان کو دلاسے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ جمہوریت میں عدم اعتماد ایک آئینی حل ہے کوئی بیرونی سازش نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا سے نکل کر عوام کی طاقت دکھانی ہوگی۔
اس بات کا ثبوت دینا ہوگا کہ اگرچہ ان کے خلاف ایک مدت تک ایک کیمپین چلائی گئی لیکن اس کے باوجود عوام ان کے ساتھ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی توجہ بٹانی ہوگی۔ عوامی فلاح کے اعلانات، کھیل کود، گیت سنگیت کی طرف لوگوں کو مائل کرنا ہوگا کیونکہ اس شدید نفرت کا علاج ہی محبت میں ہے۔ زخموں کو کریدنے کے بجائے ان پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ 

شہباز شریف کی قیادت میں نئی مخلوط حکومت کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے باوجود اگر سوشل میڈیا کے کچھ اکاؤنٹس پاکستانی پاسپورٹ کو جلانے والی وڈیوز ہی پرموٹ کرتے رہے تو ایسے لوگوں کی پاکستان کی شہریت ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر یہ پاکستانی ہی ہیں تو نادرا کے ریکارڈ سے ان کو شناخت کروانا لازم ہے۔
یاد رکھیں پاسپورٹ جلانے سے آپ محبت کے بہانے اس ملک سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں، جو پاکستانیوں کو کسی حال میں گوارہ نہیں۔

شیئر: