Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پوتن یوکرین پر سفارتکاری کے بارے میں سنجیدہ نہیں: انٹونی بلنکن

انٹونی بلنکن یوکرین کے معاملے پر خارجہ امور کی کمیٹی کو بریف کر رہے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن یوکرین کے معاملے پر سفارتکاری کے بارے میں ’سنجیدہ‘ نہیں۔
منگل کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ’متعدد بین الاقوامی کوششوں کے باوجود روسی صدر نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی ہے۔‘
انٹونی بلنکن نے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا کہ ’ہم نے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیکھا کہ صدر پوتن بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔‘
بلنکن نے کہا کہ ’ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کے پاس روسی جارحیت کو پسپا کرنے کی صلاحیت ہو اور ان کو مذاکرات کی میز پر بہتر طریقے سے مضبوط کرنا ہے۔‘
انٹونی بلنکن یوکرین کے معاملے پر ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ سینیٹر رینڈ پال امریکی مداخلت کے ناقد ہیں۔
اعلٰی امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ 24 فروری کے حملے سے قبل روس کے ساتھ بات چیت میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ یوکرین کی مغربی اتحاد میں شمولیت کے بارے میں پوتن کی شکایات ایک بہانہ تھا۔

امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے 25 اپریل کو کیئف کا دورہ کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پیر کو دارالحکومت کیئف کے دورے کے موقعے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اگر یوکرین کے پاس ’مناسب ہتھیار‘ ہوں تو وہ روس کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے دارالحکومت کیئف کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔
یوکرینی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیتنے کے لیے پہلا قدم یہ یقین اور اعتماد ہے کہ آپ جیت سکتے ہیں۔ اور ان (یوکرینی صدر) کو یقین ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں۔‘

شیئر: