Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصر نے ایک ماہ میں 44 ٹن سونا کیوں خریدا؟

عالمی سطح پر بینکوں میں ڈالر پر انحصار کم ہوا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
مصر کے سینٹرل بینک نے فروری 2022 کے دوران 44 ٹن سونا خرید کر 2022 کی پہلی سہ ماہی میں سونے کے خریدار کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے سینٹرل بینک ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ 
سبق ویب سائٹ کے مطابق پوری دنیا میں یہ سوال کھڑا ہوگیا کہ آخر مصر نے ایک ماہ کے دوران اتنا زیادہ سونا کیوں خریدا ہےـ 
 ماہر اقتصاد ھانی ابو الفتوح کا کہنا ہے کہ مصری سینٹرل بینک کے پاس فروری 2022 کے آخر میں سونے کے محفوظ ذخائر 125 ٹن تک پہنچ گئے۔ یہ مصر میں غیرملکی محفوظ کرنسی کی قدر کے حوالے سے 17 فیصد کے لگ بھگ ہے۔  
ابو الفتوح نے توجہ دلائی کہ ’نئے سودے کے بعد مصر نے خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ سونے کے اثاثے رکھنے والے ملک کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔‘
ابو الفتوح نے بتایا کہ ’مصر نے 44 ٹن سونا کیوں خریدا؟ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ پہلی  بات تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے سینٹرل بینکوں نے گزشتہ برسوں کے دوران امریکی ڈالر پر انحصار کم کیا ہے۔ امریکی معیشت اور ڈالر کے مستقبل کی بابت اٹھنے والے سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ سونے پر انحصار بڑھ رہا ہے۔‘
سونا ایسی دھات ہے جسے آسانی سے فروخت کیا جا سکتا ہے اور اس پر دنیا بھر کے ممالک، کمپنیاں اور ادارے انحصار کرتے ہیں۔ 
ابو الفتوح نے کہا کہ اتنا زیادہ سونا خریدنے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مصر، روس سے گندم درآمد کرنے کے لیے کرنسی کے بجائے سونا استعمال کرے۔ 

شیئر: