Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کا آفیشل ترانہ ’کھیلیں گے بیٹ پہ‘ جاری کر دیا گیا

پی ایس ایل 11 کے گانے میں صابری سسٹرز بھی اپنی آواز کا جادو جگا رہی ہیں (فوٹو: پی ایس ایل)
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نے ’پیپسی‘ کے اشتراک سے اپنے 11ویں ایڈیشن کا آفیشل ترانہ ’کھیلیں گے بیٹ پہ‘ ریلیز کر دیا ہے جو لیگ کے ایک نئے دور کے آغاز کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک بیان کے مطابق اس ترانے کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے جسے شائقین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔
یہ ترانہ گزشتہ 10 سالوں میں لیگ کے سفر کو اجاگر کرتا ہے جبکہ پہلی بار آٹھ ٹیموں تک توسیع بھی اس کی خاص بات ہے۔
پی سی بی کے مطابق ’پی ایس ایل اب ملک بھر میں کرکٹ شائقین کے جذبے کی علامت بن چکی ہے اور ’کھیلیں گے بیٹ پہ‘ اسی جذبے کی کہانی بیان کرتا ہے جو اب ایک پوری نسل کی رگوں میں دوڑتا ہے۔‘
’یہ گانا پاکستان میں کرکٹ سے محبت کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے، جہاں یہ کھیل کروڑوں دلوں پر راج کرتا ہے۔ سنہ2016 سے ہر سال پورا ملک اس عالمی معیار کی کرکٹ لیگ کے ذریعے ایک ساتھ اس کھیل کا جشن مناتا ہے۔‘
اس ترانے میں پاکستان کے معروف گلوکار عاطف اسلم نے مرکزی کردار ادا کیا ہے جبکہ ان کے ساتھ صابری سسٹرز انعم اور سمن، معروف گلوکارہ عائمہ بیگ اور نوجوان ریپ آرٹسٹ دانیا کنول نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔
واضح رہے کہ عاطف اسلم دوسری بار ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ترانے کا حصہ بنے ہیں۔ اس سے قبل وہ سنہ2022 کے ترانے ’آگے دیکھ‘ میں بھی جلوہ گر ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب عائمہ بیگ چوتھی بار پی ایس ایل ترانے میں اپنی آواز کا جادو دکھا رہی ہیں، اس سے پہلے وہ سنہ2021 کے ’گروو میرا‘، 2022 کے ترانے اور 2024 کے ’کھل کے کھیل‘ میں بھی شامل رہی ہیں۔
پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کا کہنا ہے کہ ’پی ایس ایل ہمیشہ عالمی معیار کی کرکٹ، شاندار تفریح اور شائقین کے بے مثال جذبے کی علامت رہی ہے۔‘
ان کے مطابق ’سیزن 11 کا یہ ترانہ لیگ کے ارتقاء اور مستقبل کے دلچسپ سفر کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ایک نئی نسل کو متاثر کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
’پیپسی کو‘ کے سینئر مارکیٹنگ ڈائریکٹر حکیمہ مرزا نے کہا کہ ’پیپسی موسیقی، کھیل اور ثقافت کے ذریعے لوگوں کو جوڑنے پر یقین رکھتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’کھیلیں گے بیٹ پہ صرف ایک گانا نہیں بلکہ ایک پیغام ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کرکٹ ہمارے خون میں شامل ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس جذبے کو ایک نئی سطح پر لے جایا جائے۔‘

شیئر: