Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یاسین ملک کو عمر قید کی سزا، شاہد آفریدی اور امت مشرا میں تکرار

یاسین میں ملک کو انڈیا کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی ایک خصوصی عدالت کی جانب سے علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کی دہشت گردوں کی مالی معاونت فراہم کرنے کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنادی ہے جس کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔
انڈین میڈیا کے مطابق یاسین ملک کو آج انڈیا کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) کی عدالت میں بھاری سکیورٹی میں پیش کیا گیا جہاں جج پروین سنگھ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی جانب سے بھی ایک ٹویٹ میں یاسین ملک کو سزا سنانے پر مذمت کی گئی اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
اپنی ایک ٹویٹ میں آفریدی کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے تنقیدی آوازوں کو دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کوششیں بیکار ہیں۔‘
’یاسین ملک کے خلاف جھوٹے الزامات کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو روک نہیں سکتے۔‘
پاکستان کے سابق کپتان نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ کشمیری رہنماؤں کے خلاف انڈین اقدامات کا نوٹس لے۔
شاہد آفریدی کی ٹویٹ کو کوٹ کرتے ہوئے سابق انڈین سپنر امت مشرا نے لکھا کہ ’ڈیئر شاہد آفریدی انہوں (یاسین ملک) نے ریکارڈ پر اپنا جرم قبول کیا۔ ہر چیز آپ کی تاریخ پیدائش کی طرح گمراہ کن نہیں ہوتی۔‘
سزا سنائے جانے سے قبل یاسین ملک کا عدالت میں کہنا تھا کہ ’میں یہاں کوئی بھیک نہیں مانگوں گا۔ آپ نے جو سزا دینی ہے دے دیجیے۔ لیکن میرے کچھ سوالات کا جواب دیجیے۔‘
یاسین ملک نے سوال اٹھائے کہ ’اگر میں دہشت گرد تھا تو ملک (انڈیا) کے سات وزیراعظم مجھ سے ملنے کشمیر کیوں آتے رہے؟ اگر میں دہشت گرد تھا تو اس پورے کیس کے دوران میرے خلاف چارج شیٹ کیوں نہ فائل کی گئی؟‘ ’اگر میں دہشت گرد تھا تو وزیراعظم واجپائی کے دور میں مجھے پاسپورٹ کیوں جاری ہوا؟‘
’اگر میں دہشت گرد تھا تو مجھے انڈیا سمیت دیگر ملکوں میں اہم جگہوں ہر لیکچر دینے کا موقع کیوں دیا گیا؟
عدالت نے یسین ملک کے سوالات پر ریمارکس دیے کہ ان باتوں کا وقت گزر گیا، اب یہ بتائیں کہ آپ کو جو سزا تجویز کی گئی ہے اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو بولیے۔
اس پر یاسین ملک نے کہا ’میں عدالت سے بھیک نہیں مانگوں گا۔ جو عدالت کو ٹھیک لگتا وہ کرے۔‘ اس سے قبل یاسین ملک نے کیس کے ٹرائل کے دوران خود پر عائد الزامات پر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

شیئر: