Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا میں لاکھوں برس قدیم 'فش راک' کی دریافت

العلا کا علاقہ حیرت انگیز قدرتی صحرائی باقیات کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ فوٹو عرب نیوز
یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کے مقامات میں سے ایک العلا کا صحرا قدرتی عجائبات اور دو لاکھ سال سے زیادہ قدیم باقیات کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق العلا میں مچھلی کی طرز کا ایک پہاڑ اپنی لاکھوں سال قدیم شکل میں موجود ہے جسے سعودی  فوٹوگرافر خالد العنزی نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر خوبصورت انداز میں اپنی دستاویز میں شامل کیا ہے۔
اس حیران کن چٹان کے بارے میں انکشاف کیا جاتا ہے کہ یہ 550 ملین سال قدیم ہے اور اسی شکل میں قائم ہے۔
خالد العنزی نے بتایا ہے کہ  وہ العلا کے صحراؤں میں  تاریخی اور آثار قدیمہ کے ساتھ ساتھ  منفرد  چٹانوں کی عجیب و غریب شکلوں کی تلاش اور ان کی عکاسی کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
35 سالہ سعودی فوٹو گرافر نے مزید بتایا کہ  انہوں نے اپنےفوٹو گرافی کے شوق کی تکمیل کے لیے اسے  کل وقتی کیریئر کے طور پر اپنا لیا ہے جس کے لیے انہیں پولیس کے محکمہ میں اعلی عہدے کو خیر باد کہنا پڑا۔
 انہوں نے اپنے  ڈرون کیمرے کی مدد سے کی جانے والی  فوٹو گرافی میں  اس فش راک  یا مچھلی کی طرز کی چٹان کوتلاش کیا ہےجو کہ صرف ڈرون کیمرے سے ہی ممکن تھا۔

مچھلی جیسی چٹان کی رنگت ہلکے سے گہرے بھورے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ فوٹو عرب نیوز

خالد نے بتایا کہ ڈرون سے ویڈیو بنانے کے بعد جب میں نے اس کی ایڈیٹنگ کرنا چاہی تو میری خوشگوار حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ میں اس چٹان کی منفرد ہیئت دیکھ کر حیران رہ گیا، یہ ایک بڑی مچھلی طرح دکھائی دے رہی تھی۔
اس چٹان کی مزید تحقیق اور بہتر انداز میں ویڈیو گرافی کے لیے میں نے  واپس اس علاقے میں جانے کا فیصلہ کیا اورسب سے پہلے اس حیرت انگیز چٹان کی  ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

العلا انتہائی شاندار سیاحتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ فوٹو عرب نیوز

سعودی عرب میں العلا کا علاقہ حیرت انگیز قدرتی صحرائی باقیات کے حوالے سے جانا جاتا ہے یہاں موجود ایلیفنٹ راک، حجرا، قدیم بستی، الدادان، اقمہ اور شیر کی شبیہ جیسی چٹانیں موجود ہیں۔
العلا کے حوالے سے ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ابھی یہاں  بہت سے مزید پرکشش اور حیرت انگیز مقامات دریافت ہونا باقی ہیں۔
یہاں کی  سنہری ریت اور حیرت انگیز پہاڑوں کے ساتھ ایسے علاقے جہاں چٹانیں موجود ہیں العلا میں سب سے شاندار سیاحتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق مزید حیرت انگیز مقامات دریافت ہونا باقی ہیں۔ فوٹو عرب نیوز

سعودی ماہر ارضیات سمیر الحربی  نے اس علاقے کی سائنسی اہمیت کے لحاظ سے بتایا کہ یہ علاقہ مخصوص انداز سے چلنے والی ہوا اور خاص کشش ثقل کے باعث  شاندار چٹانوں کی شکلوں سے بھرا پڑا ہے جس نے ہمیں صحرا میں یہ خاص پہچان دی ہے۔
سمیر الحربی کے مطابق 550 ملین سال قدیم یہ چٹان  ریت کے سمندر میں تیرنے والی مچھلی یا آبدوز سے مشابہت رکھتی ہے۔
زمانہ قدیم سے یہاں موجود اس مچھلی جیسی چٹان کی رنگت کو یہاں کے موسم اور مخصوص آب و ہوا نے ہلکے سے گہرے بھورے میں تبدیل کر دیا ہے۔
 

شیئر: