Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لانگ مارچ میں شریک پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان بے قصور ہیں: پنجاب پولیس

ڈاکٹر یاسمین کا کہنا تھا کہ ثابت ہو گیا تمام مقدمات جھوٹے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے کہ 25 مئی کے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور کارسرکار میں مداخلت کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما اور کارکن بے گناہ ہیں۔
پولیس رپورٹ کی بنیاد پر تحریک انصاف کے رہنماؤں بشمول  ڈاکٹر یاسمین راشد، اسلم اقبال اور مراد راس سمیت دیگر کارکنان نے انسداد دہشتگری اور سیشن عدالت سے اپنی عبوری ضمانتیں واپس لے لی ہیں۔
خیال رہے کہ 25 مئی کو تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ نے رکاوٹیں کھڑی کر کے کارکنان اور رہنماؤں کو لاہور سے نکلنے نہیں دیا تھا۔
چند ایک مقامات پر پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں مڈبھیڑ بھی ہوئی تھی جس پر توڑ پھوڑ اور پولیس پر تشدد کے مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔
ان مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے عدالتوں سے عبوری ضمانتیں کروا رکھی تھیں۔ ان عبوری ضمانتوں کی جمعہ کے روز سماعت ہوئی تو ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال اور محمد الرشید سمیت دیگر نامزد ملزمان کے بارے میں تفتیشی افسر نے رپوٹ جمع کرائی کہ چار مختلف مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا کردار ثابت نہیں ہوا جس وجہ سے مقدمات سے دہشتگردی کی دفعات ختم کردی گئیں ہیں اور تمام رہنماؤں نے اپنی ضمانتیں واپس لے لیں۔
کچھ اسی طرح کی ہی رپورٹ سیشن عدالت میں بھی پولیس نے پیش کی اور جن تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان  کو تفتیش میں کلین چٹ دے دی گئی ان کی یہاں سے بھی تمام ضمانتیں واپس لے لی گئیں۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف توڑ پھوڑ اور پولیس پر تشدد کے مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر یاسمین کا کہنا تھا کہ ’آج ثابت ہوا ہے کہ تمام مقدمات جھوٹے تھے۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں انہیں بے گناہ قرار دے دیا ہے اب یہ مقدمات جلد خارج بھی ہو جائیں گے۔‘ 
پی ٹی آئی رہنماؤں کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اب پنجاب میں دوبارہ عوامی حکومت آگئی ہے اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان پر یہ مقدمات حمزہ شہباز کی حکومت میں بنائے گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد چوہدری پرویز الہی کی حکومت بننے پر نہ صرف ان پولیس افسران کے تبادلے کر دیے گئے جنہوں نے لانگ مارچ روکنے میں کردار ادا کیا بلکہ پولیس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان پر درج مقدمات بھی خارج کرنے کی طرف پہل شروع کر دی ہے۔
پہلے فیز میں ان مقدمات کی تفتیش میں تمام ملزمان کو بے قصور قرار دے دیا گیا ہے۔

شیئر: