’والد کی تصویر سے باتیں کرتا ہے‘، صومالی قزاقوں کی قید میں محمد حسین کے اہل خانہ کس حال میں ہیں؟
کراچی کے ایک متوسط علاقے کی تنگ گلی میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے ہی اندر سے سسکیوں کی مدھم آواز سنائی دیتی ہے۔
یہ آواز کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک ایسے خاندان کی ہے جس کے لیے وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔
یہ گھر سید حسین کا ہے، وہ پاکستانی شہری جو ان 10 افراد میں شامل ہیں جنہیں صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
اُن کی اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی کئی روز سے نہ صرف ان کی واپسی کے منتظر ہیں بلکہ ہر گزرتا لمحہ ان کے لیے ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
’میرے شوہر کو واپس لے آئیں‘
حسین کی اہلیہ کے چہرے پر پریشانی واضح ہے، وہ بات کرتے ہوئے کئی بار رُک جاتی ہیں، جیسے الفاظ بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہوں۔
میرے شوہر کئی برسوں سے جہاز پر کام کر رہے ہیں۔ گھر کا سارا نظام انہی کے کندھوں پر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم وہ کس حال میں ہیں، کیا کھا رہے ہیں، کہاں سو رہے ہیں۔
وہ ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہیں کہ ’خدا کے لیے، حکومت میرے شوہر کو واپس لے آئے۔ میرے بچوں کا باپ ہمیں واپس چاہیے۔‘
بچوں کی دُنیا سِمٹ گئی
گھر کے ایک کونے میں ایک کمسن بچہ خاموشی سے اپنے والد کی تصویر کو دیکھ رہا ہے۔ یہ حسین کا چھوٹا بیٹا ہے۔ اُن کی والدہ بتاتی ہیں یہ سارا دن اپنے ابو کی تصویر کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے، کبھی باتیں کرتا ہے، کبھی روتا ہے۔
اس کے لیے شاید ’یرغمالی‘ یا ’بحری قزاقی‘ جیسے الفاظ کی کوئی حقیقت نہیں، مگر اسے اتنا ضرور معلوم ہے کہ اس کے والد کہیں دُور ہیں اور واپس نہیں آرہے۔
دوسری طرف حسین کی بیٹی بھی شدید اضطراب کا شکار ہے۔ اس نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ’حکومت میرے ابو کو واپس لے آئے۔ مجھے اُن کی بہت یاد آتی ہے۔‘
صومالیہ: خطرناک پانیوں کی کہانی
صومالیہ کا ساحل دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں بحری قزاقی کے واقعات گذشتہ دو دہائیوں سے عالمی تشویش کا باعث رہے ہیں۔
بین الاقوامی میری ٹائم اداروں کے مطابق اگرچہ حالیہ برسوں میں ان واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن اِن کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔
بحری قزاق عموماً تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں، عملے کو یرغمال بناتے ہیں اور بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جس جہاز پر حسین سوار تھے، وہ صومالیہ کے ساحل کے قریب اس وقت نشانہ بنا جب وہ ایک تجارتی رُوٹ پر گامزن تھا۔
پیچیدہ قانونی اور سفارتی صورتِ حال
اس واقعے کی ایک بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ یہ پاکستانی سمندری حدود سے باہر پیش آیا۔
حکام کے مطابق چونکہ جہاز غیرملکی ہے اور واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں ہوا، اس لیے اس معاملے میں متعدد ممالک اور ادارے شامل ہو جاتے ہیں۔
کراچی میں گورنر سندھ نہال ہاشمی نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر بحری امور اور سیکریٹری خارجہ سے مسلسل رابطہ ہے۔ متعلقہ سفارت خانہ اس معاملے پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ بھی اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد اور محفوظ رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
’ہمیں امید دِلائی گئی ہے‘
گورنر سندھ کی ملاقات کے بعد متاثرہ خاندانوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
’ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمارے پیاروں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جلد کوئی مثبت پیش رفت ہوگی۔‘
سمندر کے مسافر: پاکستانی سی فیررز کی حقیقت
پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سمندری جہازوں پر کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ مہینوں تک گھر سے دور رہتے ہیں اور عالمی تجارت کے نظام کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق معاشی مجبوریوں کے باعث کئی پاکستانی خطرناک رُوٹس پر بھی کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں سکیورٹی خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔
ایک سابق میرین افسر کے مطابق صومالیہ کے قریب پانیوں میں کام کرنا ہمیشہ خطرناک رہا ہے۔ اگرچہ اب سکیورٹی میں بہتری آئی ہے، لیکن خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
تاوان، مذاکرات اور خاموش سفارت کاری
بحری قزاقی کے ایسے واقعات میں عموماً پسِ پردہ مذاکرات کیے جاتے ہیں۔ اِن میں تاوان کی ادائیگی، ثالثی اور بین الاقوامی دباؤ جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔
تاہم حکام اس حوالے سے کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی جان کو محفوظ رکھنے کے لیے اکثر خاموشی سے سفارتی کوششیں جاری رکھی جاتی ہیں۔
انتظار کی اذیت
کراچی میں حسین کے گھر میں ہر فون کال ایک امید بن کر آتی ہے، مگر اکثر مایوسی میں بدل جاتی ہے۔
حسین کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ہر بار فون بجتا ہے تو لگتا ہے شاید کوئی اچھی خبر ہو۔ مگر پھر پتا چلتا ہے کہ کچھ نہیں بدلا۔ یہ انتظار صرف دنوں یا ہفتوں کا نہیں بلکہ ایک ذہنی اذیت ہے جو ہر لمحہ ان کے ساتھ چلتی ہے۔
