پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں قیمتی پتھروں کی صنعت کے فروغ اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے گلگت بلتستان، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور اسلام آباد میں ’سینٹرز آف ایکسیلنس‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ مراکز قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں استعمال کے قابل بنانے کے لیے جدید تکنیکی سہولیات فراہم کریں گے۔
اس حوالے سے پیر کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں ان مراکز کے قیام اور شعبے کی ترقی کے لیے جامع لائحۂ عمل کی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں
اجلاس میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں اراضی کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ اسلام آباد میں اراضی کے انتخاب پر کام جاری ہے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ ان مراکز کے قیام اور تمام مراحل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اربوں ڈالر کے ذخائر، مگر عالمی مارکیٹ میں ہمارا حصہ کتنا؟
پاکستان میں قیمتی پتھروں (جیم سٹونز) کی صنعت کو ایک ایسا ’چھپا ہوا خزانہ‘ سمجھا جاتا ہے جو ملکی معیشت کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً 450 ارب ڈالر مالیت کے قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہیں، لیکن مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث برآمدات محض پانچ سے سات ملین ڈالر سالانہ تک محدود ہیں۔
حکومت نے ’نیشنل جیم سٹون پالیسی 2026‘ کے تحت اگلے پانچ برسوں میں ان برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس وقت یہ صنعت زیادہ تر غیرمنظم اور روایتی طریقوں پر چل رہی ہے۔ پہاڑوں میں مائننگ کے لیے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کی شدت سے پتھروں کے اندرونی کرسٹل ٹوٹ جاتے ہیں اور یوں 70 سے 80 فیصد تک مال ضائع ہو جاتا ہے۔
جدید سہولیات کی کمی کے باعث زیادہ تر پتھر خام حالت میں ہی بیرونِ ملک بھیج دیے جاتے ہیں، جہاں دوسرے ممالک انہیں ریفائن کر کے عالمی مارکیٹ میں بھاری منافع کماتے ہیں۔

تاہم اب حکومتی منصوبے کے تحت سری لنکا اور چین کے تعاون سے افرادی قوت کی تربیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک ہزار افراد کو قیمتی پتھروں کے کم سے کم ضیاع کے ساتھ مائننگ کرنے کی عالمی معیار کی تربیت دی جائے گی۔
علاوہ ازیں، جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پہلی بین الاقوامی نمائش بھی منعقد کی جائے گی تاکہ عالمی خریداروں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔
پاکستان کے مشہور قیمتی پتھر اور علاقے
پاکستان کے مختلف علاقے نایاب پتھروں کے لیے مشہور ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کا زمرد اپنی گہری سبز رنگت کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
مردان (کاٹلنگ) کا گلابی پکھراج، گلگت بلتستان کا ایکوامارین اور یاقوت (روبی)، کشمیر کا نیلم، اور بلوچستان کے کوارٹز، فلورائٹ اور جیسپر اپنی مثال آپ ہیں۔

اسی طرح نیفرائٹ (سبز پتھر یا جیڈ) مہمند، باجوڑ اور شمالی علاقہ جات میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔
جیم سٹونز کی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پاکستان جیم سٹون اینڈ منرلز ایسوسی ایشن آف مائننگ، پروسیسنگ اینڈ ٹریڈنگ کے چیئرمین ضیاء اللہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’بین الاقوامی معیار کے ایکسیلینس سینٹرز بنانا ایک بہترین فیصلہ ہے۔ ہم طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ پاکستانی پتھروں کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کر کے عالمی مارکیٹ میں اچھی قیمت پر بیچا جا سکے۔‘
انہوں نے زور دیا کہ حکومت اس شعبے سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کو ایسی مراعات فراہم کرے کہ وہ اپنا خام مال ان مراکز میں لانے کی ترغیب حاصل کریں، تاکہ یہاں بین الاقوامی معیار کی ’ویلیو ایڈیشن‘ کے بعد ان پتھروں کو عالمی منڈیوں میں پیش کیا جا سکے۔
ضیاء اللہ کے مطابق ان مراکز کا قیام نہ صرف جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن بنائے گا بلکہ اس صنعت میں بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے در بھی کھولے گا۔













