پچاس برس بعد گھر واپسی: قرض میں ڈوبا امیر احمد ’شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد گھر سے نکلا تھا‘
منگل 28 اپریل 2026 14:21
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
ویڈیو میں امیر احمد نے اپنے بھائیوں اور والد کے نام بتائے تھے جس کے بعد ان کی فیملی کو ان کا پتہ چلا۔
شادی کے 45 دن بعد جب 24 سالہ امیر احمد مزدوری کی غرض سے کراچی گئے تو ایک حادثے نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا جس کی وجہ سے امیر احمد 50 برس تک گھر والوں سے دور رہے۔ ان کی نئی نویلی دلہن نے 5 دہائیوں تک ان کا انتظار کیا لیکن وہ واپس نہ آسکے۔ بالآخر فالج جیسی بیماری ان کے لیے اپنوں سے ملن کا سبب بنی۔
خیبرپختونخوا کے دور افتادہ ضلع شانگلہ کی تحصیل چکیسر کے پہاڑوں میں اس دن غیر معمولی ہلچل تھی۔ چکیسر کے نواحی گاؤں شواوو کی کھلی گلیاں سجی ہوئی تھیں۔ گھروں کی چھتوں سے لوگ جھانک رہے تھے، گاؤں کے لوگ پھولوں کے ہار لیے انتظار کر رہے تھے اور راستوں پر پھول کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں۔ یہ تیاریاں اس شخص کے لیے کی گئی تھیں جو نصف صدی پہلے مزدوری کی غرض سے کراچی پہنچے تھے تاہم واپس اپنے گاؤں نہ آسکے تھے۔
امیر احمد کا تعلق چکیسر سے ہے۔ وہ تقریباً سنہ 1975 کے لگ بھگ اپنی شادی کے محض ڈیڑھ ماہ بعد ہی روزگار کی تلاش میں کراچی روانہ ہوئے تھے۔
شانگلہ اور دیگر پشتون علاقوں میں یہ ایک روایت رہی ہے کہ شادی کے بعد نوجوان مرد گھر کی کفالت کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور پھر چند ماہ مزدوری کرنے کے بعد واپس لوٹ آتے ہیں۔ امیر احمد نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تاہم امیر احمد کو شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ سفر اتنا طویل ہو جائے گا کہ واپسی پر ان کے بال سفید اور جسم ضعیف ہو چکا ہوگا جبکہ چہرے پر جھریاں نمایاں ہوں گی۔
کراچی پہنچ کر امیر احمد نے شیٹرنگ (تعمیراتی لکڑیوں) کا کام شروع کیا اور باقاعدگی سے گھر پیسے بھیجتے رہے۔ زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی کہ اچانک ایک حادثے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ امیر احمد نے اپنے ابتدائی دنوں سے متعلق اردو نیوز کو بتایا کہ ’کسی طرح شیٹرنگ کی لکڑیوں نے آگ پکڑ لی۔ اس بھاری نقصان کی تمام تر ذمہ داری مجھ پر عائد کر دی گئی جس کے نتیجے میں مجھ پر تقریباً 30 لاکھ روپے کا بھاری قرض چڑھ گیا۔‘
’پیغور‘ کا خوف اور گھر نہ جانے کا فیصلہ
قرض کے بوجھ تلے دبے امیر احمد نے واپس گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ انہیں ڈر تھا کہ لوگ انہیں کیا کہیں گے؟ ضلع شانگلہ اور اکثر پشتون علاقوں میں ’پیغور‘ (طعنہ زنی یا معاشرتی طنز) کو کسی بھی بے عزتی سے بدتر سمجھا جاتا ہے جہاں معاشرہ کسی شخص کو گناہ گار قرار دے کر اس پر تمام ذمہ داری عائد کر دیتا ہے۔ امیر احمد کو خوف تھا کہ ان کی وجہ سے ان کے خاندان کو طعنے سننے پڑیں گے۔
وہ اس حوالے سے بتاتے ہیں ’میں تقریباً تب 24 یا 25 سال کا تھا۔ جب اپنی مجبوریوں کو دیکھا تو گھر لوٹنے کا خیال ترک کر دیا۔ اپنا گھر کوئی نہیں بھولتا۔ لوگوں کے پیغور کی وجہ سے میں واپس نہیں آیا۔ میں نے سوچا میری زندگی تو برباد ہوگئی ہے لیکن ایسا نہ ہو میری وجہ سے میرے گھر والوں کو تکلیف ہو یا ان کو کوئی برا بھلا کہے۔‘
امیر احمد کے بھتیجے حضرت گل بتاتے ہیں ہمیں ہمارے والد نے بتایا تھا کہ یہ کراچی جانے کے بعد واپس نہیں آئے اور نہ گھر والوں کو کوئی خبر تھی۔ ان کے بھائی کئی سالوں تک انہیں ڈھونڈتے رہے لیکن یہ غائب تھے۔‘
کراچی کی سڑکوں پر نصف صدی
وقت گزرتا گیا۔ جوانی بڑھاپے میں بدل گئی۔ جسم میں وہ طاقت نہ رہی جو کبھی شیٹرنگ جیسے سخت کام کے لیے درکار تھی۔ بالآخر انہوں نے کراچی کے ایک ہسپتال میں چوکیدار کی نوکری اختیار کر لی۔ ادھر شانگلہ میں ان کا خاندان انہیں تلاش کرتا رہا۔ ان کے بھائی برسوں تک ان کی خبر لینے کی کوشش کرتے رہے لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ امیدیں مدھم پڑتی گئیں۔ ان کے والدین دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کے ہم عمر دوست بھی ایک ایک کر کے بچھڑتے گئے۔
اس دوران امیر احمد نے کراچی میں ہی اپنی مزدوری جاری رکھی اور پائی پائی جوڑ کر قرض چکاتے رہے۔ ان کے مطابق جب قرض کی رقم میں سے صرف 80 ہزار روپے باقی رہ گئے تو مالکان نے وہ رقم معاف کر دی لیکن اس کے باوجود وہ گھر نہیں لوٹے۔ وہ بتاتے ہیں ’میرے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا تھا کہ اب اتنے سال بعد گھر والے اور علاقے والے مجھے دھوکہ باز کہیں گے۔‘
مختلف جگہوں پر مشقت کرنے کے بعد ان کی عمر ڈھل چکی تھی۔ بزرگ ہونے اور جسمانی کمزوری کے باعث انہوں نے کراچی کے ایک ہسپتال میں چوکیداری کی نوکری شروع کر دی۔
فالج کا حملہ اور ایک ویڈیو جس نے کھویا ہوا بھائی ملا دیا
وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ گزشتہ دنوں امیر احمد پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ ہسپتال انتظامیہ نے ان کی گرتی ہوئی صحت دیکھ کر کہا کہ اب انہیں دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
امیر احمد کے بقول ’مجھے ڈاکٹرز نے کہا کہ اپنے رشتہ داروں کو بلا لیں۔پہلے تو میں ٹال مٹول کرتا رہا لیکن جب کوئی نہ آیا تو میں نے ہسپتال انتظامیہ کو اپنی حقیقت بتا دی۔‘
چند روز بعد جب ان کی صحت بہتر ہونے لگی تو آس پاس بسنے والے پشتون نوجوانوں نے ان کی ایک ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔ اس ویڈیو میں امیر احمد نے اپنے بھائیوں اور والد کے نام بتائے تھے۔ یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہوئے ان کے بھائیوں تک جا پہنچی۔ ان کے بھتیجے حضرت گل اس حوالے سے بتاتے ہیں ’تین سال پہلے کسی نے اطلاع دی تھی کہ یہ مل گئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان تک نہیں پہنچ پائے تھے۔ پھر سوشل میڈیا پر ویڈیو ہم تک پہنچی۔۔۔ ہمارے گھر سے بڑے انہیں لینے کراچی گئے اور گھر لے آئے۔ بیمار ہوئے تو ہمیں مل گئے ورنہ کچھ پتا نہ چلتا۔ اب ہمارے دادا دادی اور ان کے جتنے بھی دوست تھے وہ سارے انتقال کر چکے ہیں۔‘
تاریخی استقبال اور اہلیہ کا انتظار
جب امیر احمد کے بھائی انہیں لینے کراچی پہنچے تو وہ مناظر انتہائی رقت آمیز تھے۔ جب انہیں اپنے آبائی گاؤں شواوو لایا گیا تو ان کا ایسا استقبال کیا گیا جو شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ پورے علاقے کو سجایا گیا تھا۔ ان کو ہار پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر گاؤں والوں نے ان کے لیے خصوصی گیت بھی تیار کیا۔ جس کے بول کچھ یوں ہیں
’ورک ډیري مودې نه، خپلي علاقې نه پنځوس کاله پس امیر احمد چې راپیدا کیږي، زړګي مې خوشالېګې۔۔۔‘
ترجمہ: ’ایک طویل عرصے سے اپنے علاقے سے 50 سال تک لاپتہ امیر احمد جب واپس آرہے ہیں تو دل خوشی سے لبریز ہے‘
اس گیت میں ان پر بیتی داستان بھی بتائی گئی ہے۔ حضرت گل بتاتے ہیں ’ان کے استقبال کے لیے پورے گاؤں کے لوگ نکلے تھے۔ ایسا استقبال تو کسی سیاستدان کا بھی نہیں ہوا۔ ان کے بچے نہیں ہیں اور کراچی میں بھی انہوں نے شادی نہیں کی۔ ان کی اہلیہ ان کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ انتظار کرنا ہے کیونکہ اب تک کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔ اس لیے ان کی اہلیہ منتظر تھیں۔‘
’مجھے کیا خبر تھی کہ وہ میرے انتظار میں ہوگی‘
50 سال بعد اپنے گاؤں اور گھر لوٹنے پر امیر احمد کے جذبات قابو سے باہر تھے۔ انہوں نے بمشکل صرف اپنے دو بھائیوں کو پہچانا کیونکہ جب وہ گئے تھے تو باقی بہن بھائی بہت چھوٹے تھے۔ اپنی اہلیہ کی اس بے مثال وفا پر امیر احمد شدید شرمندہ اور حیران تھے۔ انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’غلطی تو ہوئی ہے۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ میرے انتظار میں ہوگی ورنہ میں فوری واپس آجاتا۔ میں نے اپنی بیگم سے معافی مانگی اور از راہ تفنن کہا کہ میں پاؤں بھی دبا دوں گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’میں ہر وقت روتا رہا ہوں۔ جب جب گھر کے بارے میں سوچا تو رویا ہوں لیکن مجبوری تھی۔ جب 50 سال بعد اپنے گاؤں اور گھر لوٹا تو عجیب سی کیفیت تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے زندگی دوبارہ شروع ہوگئی ہو۔ غلطی انسان سے ہوتی ہے۔ مجھ سے بھی غلطی ہوئی۔ اب میں واپس جا کر وہ غلطی نہیں سدھار سکتا۔ اس لیے بس اب جو بھی ہے وہ ٹھیک ہے۔‘
