Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’شرم کرو، کوئی توہین نہیں ہے‘:عمران خان کی عبوری ضمانت منظور

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی دہشت گردی کے مقدمے میں عبوری ضمانت یکم ستمبر تک منظور کر لی گئی ہے۔
جمعرات کو عمران خان قبل از ضمانت گرفتاری کے لیے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔
20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے اعلٰی افسران اور خاتون ایڈیشنل سیشن جج کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی تھیں جس پر ان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے کی۔
عمران خان کے وکلا کے عدالت میں دلائل
سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں تقریر کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر سنایا۔
بابر اعوان کا کہنا تھا ’عمران خان نے تقریر میں کہا ہے شرم کرو۔ شرم کرو تو کوئی توہین نہیں ہے۔ یہ معمول کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اس لفظ پر دہشت گردی کا مقدمہ ہوتا ہے تو کئی وزراء پر ہو جائے گا۔‘
بابر اعوان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ یہ تو معمول میں کہا جاتا ہے کہ شرم کرو، زیادتی نہ کرو۔
وکیل کے مطابق عمران خان نے اپنی تقریر میں افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا تھا، جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی تھی۔

عمران خان پر خاتون مجسٹریٹ اور پولیس افسران کو دھمکانے کا الزام ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

 تحریک انصاف کی طاقت سے خوفزدہ ہیں
سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں  پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو بھی یہ فیصلے کرنے اور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں اپنے ملک کا سوچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طاقت سے خوفزدہ ہیں جو پھیلتی جا رہی ہے، جو ضمنی انتخابات جیت رہی ہے۔
’پاکستان کی تاریخ میں اتنے بڑے جلسے نہیں ہوئے۔ ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے کے لیے، خود کو بچانے کے لیے ملک کا مذاق اڑا رہے ہیں۔‘
انتقامی کارروائی کے تحت انسداد دہشتگردی کا مقدمہ بنایا گیا
عمران خان نے اپنے وکلا بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعے درخواست قبل از ضمانت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں دائر کی تھی۔ 
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پولیس نے انتقامی کارروائی کے تحت انسداد دہشتگردی کا مقدمہ بنایا ہے، عدالت ضمانت کی درخواست منظور کرے۔
کمرہ عدالت میں عمران خان کے ہمراہ اسد عمر، پرویز خٹک، فواد چوہدری علی زیدی اور شبلی فراز بھی موجود تھے۔
حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع
22 اگست کو عمران خان نے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو 25 اگست تک حفاظتی ضمانت دے رکھی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کی کوشش ہوگی کہ عمران خان کی ضمانت مسترد ہو جائے۔‘
وفاقی وزیر کے مطابق ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عمران خان کو عدالت سے ہی گرفتار کیا جائے۔‘
عمران خان کے خلاف مقدمہ کیا ہے؟ 
یہ پہلا موقع نہیں جب عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات پر مقدمہ درج کیا گیا ہو۔ اس سے قبل 2013 کے دھرنے کے دوران عمران خان ان پر پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کرنے کے الزام میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے 20 اگست کو سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

 عمران خان پر انسداد دہشت گردی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔
’اس دوران عمران خان نے اپنی تقریر میں اسلام آباد پولیس کے اعلٰی ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج کو ڈرایا اور دھمکایا۔‘
ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں اور تمہارے خلاف کیس کریں گے۔‘
عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ خاتون جج نے وفاقی پولیس کی درخواست پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گِل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس تقریر کا مقصد پولیس کے اعلٰی افسران اور عدلیہ کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کریں اور ضرورت پڑنے پر تحریک انصاف کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی گریز کریں۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس انداز میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام، عدلیہ اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بے چینی، بدامنی اور دہشت پھیلی اور ملک کا امن تباہ ہوا ہے۔
ایف آئی آر میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کو سزا دی جائے۔

شیئر: