Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی: ’جو پاسپورٹ دکھایا وہ ایکسپائر ہو چکا تھا‘

فیصل واوڈا نے امریکی شہریت چھوڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔ فوٹو: پی آئی ڈی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ان کی ایک اور غلط بیانی سامنے آ گئی ہے۔ 
بدھ کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سماعت کے دوران بینچ کی رکن جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جس منسوخ شدہ پاسپورٹ پر فیصل واوڈا انحصار کر رہے ہیں وہ ایکسپائر ہوچکا تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے مزید کہا کہ ریٹرننگ افسر (آر او) کو جو پاسپورٹ 2018 میں دکھایا گیا تھا وہ 2015 میں ایکسپائر ہو چکا تھا۔ 
خیال رہے کہ گزشتہ سال الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے امریکی شہریت چھوڑنے سے متعلق جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا تھا۔
بدھ کو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے فیصل واوڈا کا امریکی پاسپورٹ دیکھ کر تسلی کی ہے جس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جس پاسپورٹ پر انحصار کر رہے ہیں وہ ایکسپائرڈ تھا۔
جسٹس عائشہ نے کہا کہ امریکہ میں ’نیا پاسپورٹ بنوائیں تو پرانے پر منسوخی کی مہر لگتی ہے۔ منسوخ شدہ پاسپورٹ شہریت چھوڑے جانے کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے؟‘
جسٹس عائشہ ملک کے ریمارکس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ تو بہت سنجیدہ ہوگیا ہے۔ 

فیصل واوڈا نے تاحیات نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی 

 بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’فیصل واوڈا کا ایک اور جھوٹ سامنے آ گیا ہے۔ وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ بیان حلفی کا متن تھا کہ کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ نہیں ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی میں پاسپورٹ کا مطلب دوسرے ملک کی شہریت ہونا تھا۔ 
جسٹس عائشہ ملک نے پھر ریمارکس دیے کہ جو پاسپورٹ ریکارڈ پر موجود ہے، اس کا اور منسوخ شدہ کا نمبر مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف نمبرز سے واضح ہے کہ زائد المعیاد ہونے کے بعد نیا پاسپورٹ بھی جاری ہوا۔ 
وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ اس کے باوجود الیکشن کمیشن کے پاس تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ 
کیس میں نیا موڑ سامنے آنے پر فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’ان سولات کے جواب آپ کو آئندہ ہفتے بھی نہیں ملنے۔‘
عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔

شیئر: