Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈالرز کے عوض مخصوص افراد کو صدارتی اعلانات تک رسائی دینے کا الزام، صدر ٹرمپ پر مقدمہ دائر

صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ’ٹروتھ سوشل‘ کو اہم خبروں اور اعلانات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف دو میڈیا اداروں نے مقدمہ دائر کیا ہے جس میں ان کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایسی نئی سروس بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو صارفین کو صدر کی پوسٹس تک دوسروں (عام صارفین) سے پہلے رسائی کے لیے رقم ادا کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق بدھ کو مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں ’دی انٹرسیپٹ‘ اور ’فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن‘ نے ’ٹروتھ اے پی آئی‘ کو چیلنج کیا ہے۔
’ٹروتھ اے پی آئی‘ سروس ’ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ‘ کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور ٹروتھ سوشل کے 10 اہم اکاؤنٹس کی پوسٹس تک قبل از وقت رسائی کے لیے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر تک فیس وصول کرتی ہے، جن میں خود ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔
’ٹروتھ اے پی آئی‘ یکم اگست کو شروع کی گئی تھی، اس سے صرف چار روز قبل میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن اور کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
دونوں سینیٹرز نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ سروس مالیاتی منڈیوں کی شفافیت اور سالمیت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ وال سٹریٹ، ارب پتیوں اور خود صدر ٹرمپ کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر مقدمے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ وائٹ ہاؤس کے دیگر حکام بھی مقدمے میں فریق بنائے گئے ہیں تاہم ’ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ‘ مدعا علیہان میں شامل نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ’ٹروتھ سوشل‘ کو ایسی اہم خبروں اور اعلانات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں جن سے سٹاکس، تیل اور دیگر منڈیوں میں قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان میں ٹیرف اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات سے متعلق اعلانات بھی شامل ہیں۔
بدھ کو دائر کیے گئے مقدمے میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب تک ’ٹروتھ اے پی آئی‘ کے ذریعے پیسے کے عوض قبل از وقت رسائی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وائٹ ہاؤس کو سرکاری حکومتی اعلانات صرف ٹروتھ سوشل پر جاری کرنے سے روکا جائے۔

درخواست گزاروں کی سروس کو ’انتہائی بدعنوان‘ قرار دینے کی استدعا

مقدمے میں درخواست گزاروں نے ’ٹروتھ اے پی آئی‘ کو ’انتہائی بدعنوان‘ سروس قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صدر ٹرمپ کو اس وقت براہِ راست مالی فائدہ پہنچتا ہے جب لوگ ان کی پوسٹس تک قبل از وقت رسائی حاصل کرنے کے لیے سبسکرپشن خریدتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر مقدمے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا (فائل فوٹو: گیٹی)

درخواست گزراوں کا کہنا ہے کہ یہ سروس امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے کیونکہ ہر شخص کو صدر کے اعلانات تک یکساں رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’حکومت کے پاس صدر کی پوسٹس کو نجی صارفین کو فروخت کرنے اور اس سے صدر کو مالی فائدہ پہنچانے کا کوئی جائز حکومتی مفاد نہیں۔‘
مقدمے کے مطابق صدر ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران ٹروتھ سوشل پر کی جانے والی تقریباً نو ہزار سے 11 ہزار پوسٹس اور ری پوسٹس میں سے بہت سی ایسی تھیں جن کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ میڈیا کے ایک ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ کی معلومات پہلے ہی ’بے شمار‘ پلیٹ فارمز اور نیوز اداروں کے ذریعے پھیلائی جاتی ہیں، جن میں متعدد ایسے ادارے بھی شامل ہیں جو سبسکرپشن پر مبنی فیڈز فراہم کرتے ہیں۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ’اب بائیں بازو کے کارکن عدالتوں کو غلط طریقے سے ہتھیار بنا کر انہیں سنسر کرنے اور شیئر ہولڈرز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
پیر کو کمپنی کی آمدنی سے متعلق ایک کال کے دوران ٹرمپ میڈیا کے عبوری چیف ایگزیکٹو کیون میک گرن نے کہا تھا کہ ’ٹروتھ اے پی آئی‘ کے ذریعے سبسکرائبرز دوسروں کے مقابلے میں خبریں ’انتہائی معمولی فرق سے پہلے‘ حاصل کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ’ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ‘ کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)

ٹرمپ میڈیا کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر

’روئٹرز‘ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ’ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ‘ کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ ان کے ڈونلڈ جے ٹرمپ ریووکیبل ٹرسٹ کے ذریعے کمپنی میں ان کا 41.3 فیصد حصص ہے، جس کی مالیت تقریباً 95 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر ٹرمپ میڈیا کے ڈائریکٹر ہیں اور مذکورہ ٹرسٹ کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔
مقدمے کے مطابق ’’ٹروتھ اے پی آئی‘‘ کے ذریعے دستیاب دیگر اہم اکاؤنٹس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر صحت و انسانی خدمات رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر، ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل اور خود وائٹ ہاؤس کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

شیئر: