غزہ کے قیدی اسرائیلی جیلوں میں سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں: فلسطینی اتھارٹی
غزہ کے قیدی اسرائیلی جیلوں میں سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں: فلسطینی اتھارٹی
جمعرات 13 اگست 2026 6:58
کمیشن نے کہا کہ قیدیوں کو مسلسل مارپیٹ اور جبر کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
فلسطین میں قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کے لیے جانوٹ جیل میں انسانی حالات سخت پابندیوں، سزاؤں اور بنیادی ضروریات سے محرومی کے باعث شدید حد تک بگڑتے جا رہے ہیں، حالانکہ یہ ضروریات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت ضمانت شدہ ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کمیشن نے کہا کہ متعدد قیدیوں سے ملاقات اور ان کی شہادتیں سننے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جیل حکام واشنگ مشین کو صرف ہر 12 سے 14 دن بعد استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ زیر جامہ اور بیرونی کپڑے بھی اکثر تبدیل نہیں کیے جاتے، جس سے قیدیوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ قیدیوں کو مسلسل مارپیٹ اور جبر کا سامنا ہے، جبکہ مناسب صحت کی سہولتیں اور ذاتی بنیادی ضروریات فراہم نہیں کی جاتیں۔
مزید کہا گیا کہ بعض کمروں میں 12 قیدی رکھے گئے ہیں لیکن بستروں کی تعداد صرف 10 ہے، جس کے باعث دو قیدیوں کو فرش پر سونا پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیل حکام قیدیوں کو پیٹ کے بل سونے پر مجبور کرتے ہیں اور صبح کی گنتی کے بعد شام تک ان کے گدے ہٹا دیتے ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ جیل کے حصے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، جن میں ریزر اور نیل کٹر قیدیوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے بین الاقوامی اور انسانی اداروں، بالخصوص انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے اپیل دہرائی کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں اور فلسطینی قیدیوں کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں، تاکہ انہیں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت کم از کم حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں کے صحت کے حالات بدستور خراب اور مشکل ہیں، کیونکہ جیل انتظامیہ کی طرف سے مسلسل سزا اور انتقامی پالیسیوں نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور ان کی صحت و جسمانی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ جیل انتظامیہ کی بے شمار خلاف ورزیاں قیدیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
قیدیوں میں جلدی امراض بھی بڑھ گئے ہیں، جو ان کی صحت کے لیے اضافی خطرہ ہیں (فوٹو: فلیش 90)
خوراک مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے ناقص ہے، جبکہ بیمار قیدیوں کو دوا اور علاج سے محروم رکھا جاتا ہے۔
قیدیوں میں جلدی امراض بھی بڑھ گئے ہیں، جو ان کی صحت کے لیے اضافی خطرہ ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ اوفر جیل میں حکام صبح سویرے گدے ہٹا دیتے ہیں اور شام کو واپس کرتے ہیں، جبکہ سیلوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور قیدیوں کو مارپیٹ، بدسلوکی، گالی گلوچ اور ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
قیدیوں کو بیرونی تفریح اور غسل کے لیے 15 منٹ سے زیادہ وقت نہیں دیا جاتا۔
ان کے پاس کپڑے اور کمبل بھی ناکافی ہیں، ہر قیدی کے پاس صرف ایک جیل یونیفارم اور ایک بیج رنگ کا پاجامہ سیٹ ہوتا ہے۔ قیدیوں کو صفائی اور جراثیم کش سامان رکھنے سے بھی منع کیا جاتا ہے، جو سزا کے دیگر اقدامات میں شامل ہے۔