Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سے جمہوریت کو نکالنا ملک دشمنی ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ملکی اور غیرملکی مشہور شخصیات شریک ہوئے ہیں۔ (فوٹو: منیزے جہانگیر)
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ملک کو منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے چلانا ضروری ہے۔
سنیچر کو لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمہوریت پاکستان کی ضرورت ہے اور عدلیہ، انتظامیہ اور فوج بحیثیت انتظامی حصہ ملک کے لیے ضروری ہیں۔ ’پاکستان سے جمہوریت کو نکالنا ملک دشمنی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دباؤ میں آ کر ملک بیچ دے تو اس کو تاریخ یاد رکھے گی۔
’یہ بات مجھے افسردہ کر دیتی ہے جب ایک سابق چیف جسٹس ٹی وی انٹرویو میں بتاتے ہیں اُنہوں نے دباؤ میں آ کر ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا تو اس طرح کے فیصلے دینے کے بجائے استعفیٰ دینے اور گھر جانے کا آپشن ہوتا ہے۔
انہوں نے ملک کے سابق فوجی آمروں کے نام لے کر کہا کہ وہ اگر کوئی ’بلیک لسٹ‘ بنائیں گے تو اس میں اِن افراد کے نام شامل کریں گے۔
سپریم کورٹ کے سینیئر جج کا کہنا تھا کہ کسی غلط کام پر ادارے پر تنقید کے بجائے اس شخص کا نام لے کر تنقید کا نشانہ بنایا جانا چاہیے۔
’پوری عدلیہ کے ادارے کے بجائے جج کا نام لے کر تنقید کی جائے، جرنیل کا نام لے کر تنقید کی جائے فوج کے بجائے۔ پوری انتظامیہ کے بجائے اُس بیوروکریٹ کا نام لے کر تنقید کی جائے۔‘

شیئر: