Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سابق چینی صدر کو اجلاس سے کیوں ’نکالا گیا‘؟

چین کے سابق صدر ہوجن تاؤ کو غیر متوقع طور پر کمیونسٹ پارٹی کانگریس کی اختتامی تقریب سے باہر لے جایا گیا جس نے انتہائی منظم تقریب میں خلل ڈال دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو چین کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ جس وقت ہوجن تاؤ کو باہر لے جایا گیا تو ان کی ’طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘ لیکن بعد میں کچھ آرام کے بعد ’کافی بہتر‘ ہوگئی۔
کمزور نظر آنے والے 79 سالہ ہوجن تاؤ بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں کارروائی کی اگلی صف کو چھوڑنے سے گریزاں تھے، جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیٹھے تھے۔
ایک سٹیورڈ نے چین کے سابق صدر کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی، لیکن ہوجن تاؤ کے انکار کے بعد اس نے دونوں ہاتھوں سے انہیں اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔
تقریباً ایک منٹ کے تبادلے کے بعد، جس میں ہوجن تاؤ نے چینی صدر اور وزیراعظم لی کی چیانگ کے ساتھ مختصر گفتگو کی، انہیں ہال سے باہر لے جایا گیا۔
اس دوران صدر شی جن پنگ جو ڈیسک پر کاغذات پکڑے بیٹھے تھے، جو سابق صدر نے ان سے چھیننے کی کوشش کی۔

79 سالہ ہوجن تاؤ گریٹ ہال آف دی پیپل میں کارروائی کی اگلی صف کو چھوڑنے سے گریزاں تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بعد میں سرکاری خبر رساں ایجنسی شینہوا نے ٹویٹر پر کہا کہ ’ان کے رپورٹر لیو جیاوین کو معلوم ہوا ہے کہ ہوجن تاؤ نے اختتامی اجلاس میں شرکت پر اصرار کیا تھا جبکہ ان کی صحت ابھی بحال نہیں ہوئی تھی۔‘
’جب سیشن کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کا عملہ انہیں میٹنگ ہال کے ساتھ والے کمرے میں آرام کے لیے گیا۔ اب وہ بہت بہتر ہیں۔‘
ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کانگریس کی کارروائی زیادہ تر بند دروازوں کے پیچھے ہوئی، لیکن ہوجن تاؤ کو اس وقت ہال سے باہر لے جایا گیا، جب میڈیا کو اختتامی تقریب کی کوریج کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
سابق چینی صدر کو جس وقت ہال سے باہر لے جایا گیا، اس سے قبل کانگریس کے 23 سو مندوبین نے صدر شی جن پنگ کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا۔
یوریشیا گروپ کنسلٹنسی کے چین پر سینیئر تجزیہ کار نیل تھامس کے مطابق ’یہ واقعہ شی جن پنگ کی مخالفت کے بعد ہو سکتا ہے یا محض بدقسمتی کا ایک واقعہ ہو سکتا ہے۔‘
تجزیہ کار الیکس وائٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’چاہے یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہو یا وہ بیمار تھے، اس کا اثر ایک ہی ہے۔ شی سے پہلے قیادت کرنے والی آخری نسل کی مکمل تذلیل۔‘
چین کے ٹویٹر نما پلیٹ فارم ویبو پر ’ہوجن تاؤ‘ سرچ کے نتائج کو سنیچر کی سہ پہر کو بہت زیادہ سنسر کیا گیا اور اس حوالے سے پوسٹس صرف سرکاری اکاؤنٹس تک ہی محدود رہیں۔

شی جن پنگ، ماؤزے تنگ کے بعد چین کے سب سے طاقتور رہنما بن چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اتوار کو باضابطہ طور پر صدر شی جن پنگ کا مزید پانچ سال کے لیے بطور پارٹی سیکریٹری جنرل نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سے بطور صدر ان کی تیسری مدت کے سفر کا آغاز ہو جائے گا۔
10 سال قبل ہوجن تاؤ سے اقتدار لینے والے شی جن پنگ، ماؤزے تنگ کے بعد چین کے سب سے طاقتور رہنما بن چکے ہیں۔

شیئر: