Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طالبان کمانڈر سوات بیمار بہن کی عیادت کرنے آئے تھے: بیرسٹر سیف

خیبرپختونخوا کے معاؤن خصوصی بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ایک طالبان رہنما کے بقول ان کے ساتھی سوات میں جنگ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ اپنی بیمار بہن سے ملنے آئے تھے۔
خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں انکشاف کیا کہ سوات میں کالعدم تنظیم کمانڈر اپنی بیمار بہن سے ملنے آئے تھے۔
بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ’میں نے طالبان رہنماؤں سے پوچھا کہ اپ کے ساتھی سوات مٹہ کیوں آئے ہیں وہاں حالات خراب ہو رہے ہیں تو طالبان کے رہنما کی جانب سے مجھے جواب  ملا کہ سوات سے تعلق رکھنے والے ایک کمانڈر کی بہن بہت بیمار تھی اس لیے وہ بیمار پرسی کے لیے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گئے تھے۔ کالعدم تنظیم کے کمانڈر کے مطابق  کہ وہ جنگ کے لیے سوات نہیں آئے تھے۔‘
’حالات اس حد تک نہیں بگڑے تھے جتنا میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کو ایشو بنایا گیا۔ میں مانتا ہوں کہ کچھ واقعات ہوئے مگر کوئی بڑی دہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔‘
اردو نیوز کے سوال پر بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ’میں نے طالبان سے جنگ بندی کی اپیل کی تھی جس کا ان کے رہنماوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔ ہمیں کامیاب مذاکرات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں بند کرنی ہوں گی۔‘ 
بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبے میں امن قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری نبھائی جا رہی ہے مگر کچھ لوگ اس معاملے میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’سوات میں حالات اب کنٹرول میں ہیں لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں میں سیاحوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور سوات کا دورہ کریں۔‘

شیئر: