یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کیوں کیا گیا؟
یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کیوں کیا گیا؟
جمعرات 1 جنوری 2026 18:08
پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے وکیل میاں علی اشفاق کی وکالت کا لائسنس معطل کرتے ہوئے مستقل منسوخی کے لیے معاملہ انضباطی کمیٹی کو بھیجا ہے۔
جمعرات کو لاہور سے جاری کیے گئے بیان میں پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے ارسال کردہ مراسلے پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔
بیان کے مطابق ’کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں علی اشفاق ایڈووکیٹ جو ایک ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، ہڑتال والے دن کراچی کی عدالتوں میں پیش ہوتے نظر آئے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی سٹی عدالتوں میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال سابق لائبریرین ناصر محمد کلہوڑو کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاجاً کی جا رہی تھی، اور اس دوران عدالتی کارروائی مکمل طور پر معطل تھی۔‘
بار کونسل نے اس کے باوجود علی اشفاق ایڈووکیٹ کا گارڈز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونا ہڑتال کی خلاف ورزی اور پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کے منافی قرار دیا ہے۔
’ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ علی اشفاق نے اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران وکلاء برادری کے خلاف بیانات دیے، جس کے نتیجے میں قانونی برادری کے اندر اختلافات، کشیدگی اور محاذ آرائی پیدا ہوئی۔ اور وکلاء کی اجتماعی ساکھ، اتحاد اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔‘
بار کونسل کی کمیٹی نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ علی اشفاق پنجاب بار کونسل کے ساتھ بطور ایڈووکیٹ رجسٹرڈ ہیں اور بطور وکیلِ ہائی کورٹ بھی نامزد ہیں، لہٰذا وہ ہر حال میں اپنے پیشے کے وقار اور قانونی ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے پابند تھے۔ کمیٹی کے مطابق ’انہوں نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976ء کے رول 134 اور 175-A کی صریح خلاف ورزی کی جو پیشہ ورانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے۔‘
ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ علی اشفاق کا لائسنس برائے وکالت فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔ اور ان کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا جاتا ہے جو قانون کے مطابق ان کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے بارے میں کارروائی کرے گی۔
علی اشفاق ایڈووکیٹ گزشتہ ہفتے اپنے مؤکل کی نمائندگی کرتے ہوئے اُن کے ہمراہ کراچی کی سٹی کورٹس میں واقع عدالت مٰں پیش ہوئے تھے جہاں چند وکلا نے ملزم رجٹ بٹ پر حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
بار کونسل کے مطابق میان علی اشفاق ایڈووکیٹ کا عدالت میں پیش ہونا ہڑتال کی خلاف ورزی اور پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کے منافی ہے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
وکیل علی اشفاق نے اس حملے کا مقدمہ تھانہ تھانے میں درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وکلا نے رجٹ بٹ سے بیگ چھین لیا تھا جس میں تین لاکھ روپے تھے۔
مقدمہ درج ہونے پر کراچی بار کے وکیلوں نے شدید احتجاج کیا اور مبینہ طور پر سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بول کر وہاں موجود ایس ایچ او سٹی کورٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس سٹیشن میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔
گذشتہ روز وکلا نے ایم اے جناح روڈ پر 6 گھنٹے سے زائد دھرنا دیا تھا۔ صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ نے کہا تھا کہ پولیس کراچی بار کے وکلا کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کر رہی ہے ۔
یاد رہے کہ رجب بٹ پر احاطہ کچہری میں تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند وکلا نے رجب بٹ کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے اور وکیل کے لباس میں ملبوس ایک شخص کہہ رہا ہے کہ اِس (رجب) نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ یہ (وکلا) برساتی مینڈکوں کی طرح نکل آتے ہیں اور یہ کہ اِن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ویڈیو میں موجود شخص مزید کہتا ہے کہ وکلا نے آج انھیں کراچی کی مہمان نواز دکھائی ہے۔
اسی موقع پر بنائی گئی مزید ویڈیوز پر وکلا میں لباس میں ملبوس اشخاص رجب بٹ پر مکوں اور تھپڑوں کی بارش کرتے ہیں اور اسی دھینگا مشتی کے دوران اُن کا گریبان چاک ہو جاتا ہے۔