صارفین کے اجازت کے بغیر موبائل کمپنیاں مختلف سروسز فعال کیوں کر دیتی ہیں؟
صارفین کے اجازت کے بغیر موبائل کمپنیاں مختلف سروسز فعال کیوں کر دیتی ہیں؟
جمعرات 1 جنوری 2026 5:35
پی ٹی اے کے بعض افسران کے مطابق صارفین کی اس نوعیت کی شکایات پر انہوں نے متعدد بار متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کیا اور اپنی تحقیقات بھی کیں۔ (فائل فوٹو: موبائل ورلڈ)
پاکستان میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے صارفین بارہا شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ موبائل کمپنیاں ان کی اجازت کے بغیر مختلف سروسز فعال کر دیتی ہیں، جس سے ان کے اکاؤنٹس میں موجود بیلنس کم ہو جاتا ہے۔
اسی نوعیت کی شکایات ان دنوں سوشل میڈیا پر بھی سامنے آ رہی ہیں، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر ڈائل ٹونز، الرٹس اور دیگر سروسز خود بخود فعال کی جا رہی ہیں۔
اسی نوعیت کی ایک شکایت اسلام آباد کے ایک شہری منور علی (فرضی نام) کی جانب سے سامنے آئی ہے، جو ایک نجی موبائل کمپنی (جاز) کے صارف ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ایک ہی دن میں ان کی سم پر تین مختلف سروسز فعال کر دی گئیں، جن میں میڈیکل کیئر، سیکیورتین اور ڈیلی فیوژن شامل تھیں۔
متاثرہ صارف کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کوئی سروس ایکٹیویٹ نہیں کی تھی، اور جب انہیں ان سروسز کے ایکٹیویشن کے پیغامات موصول ہوئے تو اس وقت ان کا موبائل فون زیرِاستعمال نہیں تھا بلکہ ایک جانب رکھا ہوا تھا۔
اسی طرح دیگر کمپنیوں (زونگ، ٹیلی نار، یوفون) کے صارفین نے بھی سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی شکایات کی ہیں۔ اسلام آباد کے ایک اور شہری محمد عاقب (فرضی نام) نے بتایا کہ وہ مختلف موبائل کمپنیوں کی سمز استعمال کر چکے ہیں، تاہم ایک بات تمام تجربات میں مشترک رہی کہ ان کی سمز پر بھی بغیر اجازت مختلف سروسز ایکٹیویٹ ہوتی رہیں۔
اردو نیوز نے صارفین کی ان شکایات سے متعقل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور مختلف موبائل کمپنیوں سے باضابطہ موقف لینے کی کوشش کی، تاہم انتظار کے باوجود کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم پی ٹی اے کے بعض سینیئر افسران نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صارفین کی اس نوعیت کی شکایات پر انہوں نے متعدد بار متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کیا اور اپنی تحقیقات بھی کیں۔
انہوں نے کہا کہ ’زیادہ تر کیسز میں یہ بات سامنے آئی کہ صارفین کی کم علمی یا غلطی سے موبائل ایپ، کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے سروسز کی درخواست چلی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سروسز خود بخود ایکٹیویٹ ہو جاتی ہیں۔ تاہم کمپنیوں نے ہمیشہ سروسز کو ڈی ایکٹیویٹ کرنے کے لیے آپشن رکھا ہوتا ہے، اور صارفین اس کے تحت کارروائی کر سکتے ہیں۔‘
انہی شکایات سے متعلق گذشتہ مہینے نو دسمبر کو ہونے والی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات پر اُنہوں نے خود کمپنیوں سے پوچھ گچھ کی گئی مگر انہوں نے ایسے کسی اقدام کی تردید کی۔ اندرونی آڈٹ میں یہ بات ضرور سامنے آئی کہ کم خواندہ صارفین اکثر غلطی سے ایسے پیغامات یا لنکس سبسکرائب کر لیتے ہیں جن کے باعث ان کے پیکجز خودبخود تبدیل ہو جاتے ہیں۔
مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے صارفین بارہا شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ موبائل کمپنیاں ان کی اجازت کے بغیر مختلف سروسز فعال کر دیتی ہیں۔ (فائل فوٹو: زونگ)
البتہ اُنہوں نے واضح کیا تھا کہ ’انہوں نے خود ایک مرتبہ دو ہزار روپے کا ڈیٹا پیکج خریدا جو اچانک ختم ہو گیا۔ اس پر جب کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا تو ان کے پاس اس کا کوئی واضح جواب نہیں تھا۔‘
وزیر آئی ٹی کے مطابق اس نوعیت کی شکایات کسی نہ کسی حد تک موجود رہتی ہیں۔
اس حوالے سے اسلام آباد میں مقیم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر روحان زکی نے صارفین کی شکایات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں اور اس سے انکار ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اب پاکستان میں زیادہ تر صارفین انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے موبائل کمپنیوں کی وہ اضافی سروسز، جیسے ایس ایم ایس یا دیگر وی اے ایس الرٹس، پہلے کی طرح استعمال نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات کمپنیاں اپنے مالی اہداف پورے کرنے کے لیے صارفین کی خواہش کے بغیر بھی ایسی سروسز ایکٹیویٹ کر دیتی ہیں۔‘
روحان زکی نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ (فائل فوٹو: جاز)
روحان زکی نے مزید کہا کہ یہ معاملہ حکومتی سطح پر کیوں نظر انداز ہو جاتا ہے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے، اور بظاہر اس میں متعدد سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ دور میں موبائل کمپنیوں کو ویلیو ایڈڈ سروسز مفت کر دینی چاہییں اور صارفین سے صرف انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال کی بنیاد پر ہی چارجز وصول کیے جانے چاہییں۔