Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بندروں کو کھانے کی اشیا دینے والوں کو جرمانے ہوں گے‘

چھ علاقوں میں بندروں کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے( فائل فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے محکمہ جنگلی حیات کے قومی مرکز کے ڈائریکٹراحمد البوق نے کہا ہے کہ ’مملکت کے چھ علاقوں میں بابون نسل کے بندروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔‘ 
جنگلی بندروں کو کھانا دینے کے نقصانات کے حوالے سے قومی مرکز کی سے مہم جاری ہے۔ ان علاقوں میں آگاہی بورڈز بھی نصب کیے ہیں جہاں یہ بندر پائے جاتے ہیں۔
عاجل نیوز کے مطابق جنگلی حیات اورماحولیات کے قومی مرکز کے ڈائریکٹر نے سعودی ٹی وی ’الاخباریہ چینل‘ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ’مرکز کی جانب سے متعلقہ گورنیٹس کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے جس کے تحت ’بابون‘ کو کھانے کی اشیا دینے والوں پر’ذوق العام‘ کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔‘ 
انہوں نے مزید کہا کہ ’جازان، نجران، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پائے جانے والے بابونز کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 500 سے زیادہ ہے۔‘  
جن علاقوں میں بندروں کی کثرت ہے وہاں سے مرکز کو 2800 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 1900 کو حل کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بندروں سے حفاظت کے لیے مرکز کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف مقامات پرلوگوں کی آگاہی کے لیے بورڈز نصب کیے گئے ہیں جن پربندروں کو کھانے کی اشیا دینے کی ممانعت کی گئی ہے۔‘
علاوہ ازیں بعض دیگر تجاویز بھی زیر غورہیں تاکہ بندروں سے محفوظ رہا جا سکے جن میں ایسے آہنی جنگلوں کی تنصیب بھی شامل ہے جن میں لووولٹیج کرنٹ ہو جومحفوظ بھی ہو۔ 
قومی مرکز کے ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگلوں یا بیابانوں میں رہنے والے بندر جب قدرتی خوراک کے علاوہ شہری خوراک کے عادی ہوجاتے ہیں تو وہ مطلوبہ خوراک نہ ملنے پرقریبی آبادی کا رخ کرتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘
’اس حوالے سے کوشش ہے کہ جنگلی بندروں کو شہری آبادیوں سے درورکھنے کے لیے انہیں انسانوں کی خوراک کا عادی نہ بنایا جائے تاکہ آبادی کے لیے مسائل نہ پیدا ہوں۔‘  

شیئر: