Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 تاریخی جزیرے دارین اور تاروت کے لیے ولی عہد کے ترقیاتی اقدام

شہزادہ محمد بن سلمان نے ڈیولپمنٹ ادارے کے قیام  کا اعلان کیا ہے(فوٹو، ٹوئٹر)
سعودی حکومت نے تاریخی اور ثقافتی مقامات سے مالا مال جزیرہ دارین اور تاروت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔  
ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان جو اقتصادی و ترقیاتی امور کونسل کے سربراہ بھی ہیں نے اس مقصد کے لیے جزیرہ دارین و تاروت ڈیولپمنٹ ادارے کے قیام  کا اعلان کردیا۔ 
سعودی خبررساں ادارے ‘ایس پی اے’ کے مطابق جزیرہ دارین و تاروت کی تعمیر و ترقی کی ابتدائی منظوری کابینہ  نے دے دی تھی۔ 
جزیرہ دارین و تاروت کی  تعمیر و ترقی کے لیے  2644  ارب ریال  کا ابتدائی بجٹ مختص کردیا گیا ہے۔ نیا ادارہ یہاں قومی پیداوار کے فروغ اور زندگی کا معیار بلند کرنے والے پروگرام نافذ کرے گا۔ جزیرے میں تاریخی، ماحولیاتی اور سیاحتی منصوبے نافذ کیے جائیں گے۔ 
جزیرہ دارین و تاروت 32 مربع کلو میٹر کے رقبے میں واقع ہے۔ یہاں کی آبادی ایک لاکھ  20 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ ترقیاتی پروگرام سہ نکاتی ہے۔ جزیرے کے ثقافتی اور تاریخی مقامات کا تحفظ کیا جائے گا۔  یہاں ماحولیاتی و قدرتی مقامات سے استفادے کی سکیمیں نافـذ کی جائیں گی۔
یہاں زندگی کا معیار بلند کیا جائے  گا اور جزیرے کی سیاحتی خصوصیات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔ 

 ترقیاتی منصوبوں سے سالانہ 297 ملین ریال کی قومی پیداوار متوقع ہے(فوٹو، ایس پی اے)

جزیرہ سے متعلق ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے  19 سے زیادہ انشیٹو تیار کرلیے گئے  ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہےکہ دارین ایئرپورٹ اور دارین قلعے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ دونوں کو تاریخی سیاحت کے اہم مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ 
جزیرہ دارین و تاروت میں متعدد ثقافتی و تاریخی میلے منعقد کیے جائیں گے۔ جزیرے میں واقع تاریخی مقامات کی سیر کی خاطر پیدل چلنے والوں کے لیے سپیشل ٹریک بنائے جائیں گے۔ ماحولیاتی تحفظ کی خاطر خلیج عرب کے ساحل پر مینگروف کا سب سے بڑا جنگل قائم کیا جائے گا۔ قدرتی مناظر سے مالا مال مقامات پر ہوٹل اور مہمان خانے تعمیر ہوں گے۔  
جزیرے میں زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے جدید ترین بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ سڑکیں تعمیر ہوں گی۔ پارک بنائے جائیں گے جہاں سپورٹس کی نئی تنصیبات اور سٹیڈیم کا بھی اہتمام ہوگا۔ 
توقع کی جارہی ہے کہ یہاں نافذ کیے جانے والے منصوبوں سے سالانہ اوسط قومی پیداوار 297 ملین ریال ہوگی۔ امید کی جارہی ہے کہ 2030 تک یہاں 1.36 ملین سیاح آنے لگیں گے۔ مقامی باشندوں کے لیے روزگار کے ہزاروں مواقع نکلیں گے۔ 
طے کیا گیا ہے کہ جزیرے کا 48 فیصد رقبہ سکوائرز، پبلک پارکوں، سی فرنٹس، سڑکوں اور رفاہ عام کے وسائل  کے لیے مختص ہوگا۔ 

جزیرہ دارین اور تاروت 5 ہزار برس قدیم ہیں (فوٹو، ٹوئٹر)

شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اس حوالے جاری احکامات میں کہا گیا  ہے کہ جزیرہ دارین و تاروت کے ترقیاتی پروگراموں میں حائل تمام رکاوٹیں پہلی فرصت میں حل  کی جائیں اور مقامی باشندوں کے لیے روزگار کے مواقع مہیا کیے جائیں۔ 
یاد رہے کہ جزیرہ دارین و تاروت کی تاریخ 5 ہزار سال سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ یہاں  11 سے زیادہ تاریخی مقامات ہیں۔
دارین بندرگاہ خطے کی قدیم ترین بندرگاہوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔  ماضی میں یہاں کی منڈی بڑی مشہور تھی۔ یہاں مشک خوشبویات، ملبوسات اور مصالحہ جات کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔ 

شیئر: