Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی احسان عادل کون ہیں؟

احسان عادل نے پاکستان کے لیے آخری میچ 2015 کے ورلڈ کپ میں کھیلا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
آج سری لنکا میں ہونے والے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ کے مقابلے میں ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملے گا، جہاں ایک وقت میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ بولر احسان عادل اب امریکہ کی جانب سے گرین شرٹس کے خلاف میدان میں اتریں گے۔
یہ میچ اس لیے بھی خاص ہے کہ احسان عادل پہلی مرتبہ کسی عالمی ایونٹ میں پاکستان کے مدمقابل نظر آئیں گے، اور وہ بھی امریکہ کی جرسی میں۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی نے احسان عادل کو امریکہ کے فاسٹ بولر جسدیپ سنگھ کی جگہ سکواڈ میں شامل کرنے کی منظوری دی۔
جسدیپ سنگھ 5 فروری کو نیوزی لینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کے دوران کندھے کی انجری کا شکار ہو گئے تھے جس کے بعد وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہوئے۔
اسی فیصلے کے تحت احسان عادل کو امریکہ کے سکواڈ میں شامل کیا گیا اور یوں وہ 11 سال بعد ایک مرتبہ پھر آئی سی سی ورلڈ کپ کے سٹیج پر نظر آ رہے ہیں۔
آخری بار انہوں نے پاکستان کی نمائندگی 2015 کے ورلڈ کپ میں کی تھی۔
احسان عادل کون ہیں؟

احسان عادل 15 مارچ 1993 کو پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ کے بلے باز اور فاسٹ بولر ہیں۔ ان کا شمار اُن کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہیں بہت کم عمری میں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔
انہوں نے 2012 میں آسٹریلیا میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی کی۔ اسی سال انہوں نے حبیب بینک لمیٹڈ کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا، جہاں پہلے ہی میچ میں چھ وکٹیں حاصل کر کے سب کی توجہ حاصل کی۔
سنہ2012-13  کے سیزن میں احسان عادل نے پریزیڈنٹ ٹرافی (پاکستان کی چار روزہ ڈومیسٹک کرکٹ) میں شاندار کارکردگی دکھائی اور 17.88 کی اوسط سے 54 وکٹیں حاصل کر کے دوسرے کامیاب ترین بولر رہے۔ یہی کارکردگی انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیم تک لے گئی۔
احسان عادل نے دسمبر 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سینچورین ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 19 سال تھی اور وہ اپنی 20ویں سالگرہ سے محض ایک ماہ دور تھے۔
یہ ڈیبیو اس لیے بھی یادگار بنا کہ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی تیسری ہی گیند پر جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ کو آؤٹ کر کے اپنی سلیکشن کو اچھا فیصلہ ثابت کیا تھا۔ اس میچ میں پاکستان کا فاسٹ بولنگ اٹیک انتہائی کم تجربہ کار تھا، جہاں تینوں پیسرز کا مجموعی ٹیسٹ تجربہ صرف دو میچز پر مشتمل تھا۔
پاکستان کے لیے آخری عالمی میچ

احسان عادل نے پاکستان کے لیے 2013 سے 2015 تک کرکٹ کھیلی۔ ان کا آخری بین الاقوامی میچ 2015 ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں ہوا۔ اس کے بعد وہ قومی ٹیم کا مستقل حصہ نہ بن سکے۔
ڈومیسٹک کرکٹ اور بعد کا سفر
پاکستان میں انہوں نے فیصل آباد وولوز، حبیب بینک لمیٹڈ، پنجاب اور سینٹرل پنجاب جیسی ٹیموں کی نمائندگی کی۔ 2019 میں انہیں پنجاب کے سکواڈ میں پاکستان کپ کے لیے شامل کیا گیا، جبکہ اسی سال وہ قائداعظم ٹرافی میں سینٹرل پنجاب کی جانب سے بھی کھیلے۔

بعد ازاں احسان عادل امریکہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے میجر لیگ کرکٹ میں کھیلتے ہوئے اپنے کیریئر کو نئی سمت دی۔ ان کے فرسٹ کلاس کیریئر میں مجموعی طور پر 245 وکٹیں شامل ہیں، جبکہ ٹی20 فارمیٹ میں بھی ان کا ریکارڈ مضبوط رہا ہے۔
اب سری لنکا کے کولمبو میں سنہالیز سپورٹس کلب گراؤنڈ پر ہونے والا یہ میچ محض پاکستان اور امریکہ کا ٹاکرا نہیں، بلکہ احسان عادل کے کیریئر کی ایک واپسی بھی ہے۔ ایک ایسے بولر جنہیں کبھی پاکستان کا مستقبل سمجھا جاتا تھا، آج امریکہ کے لیے اسی ٹیم کے خلاف کھیل رہے ہیں۔
یہ مقابلہ امریکہ کی ٹیم کے لیے بھی اہم ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ وہ 2024 میں پاکستان کے خلاف ایک حیران کن فتح حاصل کر چکے ہیں۔

 

شیئر: