نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم، سولر صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟
نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم، سولر صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟
منگل 10 فروری 2026 11:11
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
نیٹ میٹرنگ نظام نے پاکستان میں سولر انرجی کو بہت فروغ دیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حال ہی میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت روایتی نیٹ میٹرنگ سسٹم کو ختم کرکے نیٹ بلنگ کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ دسمبر 2025 میں منظور ہوا اور اس سال فروری کے مہینے سے مکمل طور پر لاگو ہو گیا ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو مالی نقصان سے بچانا اور قومی گرڈ کی استحکام کو یقینی بنانا ہے لیکن اس سے لاکھوں سولر پینل استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
نیٹ میٹرنگ کیا تھی اور یہ کیسے کام کرتی تھی؟
نیٹ میٹرنگ ایک ایسا نظام تھا جو پاکستان میں سال 2015 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کے تحت گھروں، دفتروں یا کاروباری اداروں میں لگے سولر پینلز سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو قومی گرڈ میں بھیج کر صارفین اپنے بجلی کے بل میں کمی کر سکتے تھے۔
سادہ الفاظ میں، اگر کوئی صارف دن میں سولر سے زیادہ بجلی پیدا کرتا تو وہ اضافی یونٹ گرڈ کو دے دیتا اور رات یا ابر آلود موسم میں گرڈ سے لیے گئے یونٹس کی ’آفسیٹ‘ حاصل کرتا۔ یہ ایک سے ایک کے تناسب پر ہوتا تھا، یعنی جو یونٹ دیے جاتے تھے، وہی تعداد میں واپس مل جاتے تھے۔
اس نظام نے پاکستان میں سولر انرجی کو بہت فروغ دیا، کیونکہ صارفین کو اپنے بل تقریباً صفر تک لانے کا موقع ملتا تھا۔ مثال کے طور پر، ایک عام گھریلو صارف جس کا ماہانہ بل 15 ہزار روپے آتا تھا، سولر لگانے کے بعد صرف فکسڈ چارجز ادا کرتا اور باقی بل آفسیٹ ہو جاتا۔
شہروں کے علاوہ دوردراز علاقوں میں سولر انرجی کی ترقی تیزی سے ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
نئی پالیسی کا آغاز اور حکومت کی منطق
یہ نئی پالیسی، جسے پروسومر ریگولیشنز 2025 کہا جاتا ہے، گزشتہ سال دسمبر میں وزارت توانائی کی منظوری کے بعد نیپرا نے جاری کی۔ اس کا باقاعدہ نفاذ جنوری کے مہینے سے شروع ہوا اور فروری تک تمام نئے کنکشنز پر لاگو ہو گیا۔ حکومت کی منطق یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے بجلی کی ڈیمانڈ کم ہو رہی ہے جس سے بجلی کی پیداواری کمپنیاں خسارے میں جا رہی ہیں۔ خاص طور پر، گرڈ کی دیکھ بھال اور کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ غیر سولر صارفین پر پڑ رہا ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق، یہ نظام گرڈ کی لاگت کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ سولر صارفین کی وجہ سے سالانہ 159 ارب روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی قومی بجلی کے نظام کو مزید مستحکم کرے گی اور ماحولیاتی اہداف کو بھی پورا کرے گی، اگرچہ ناقدین اسے سولر کی حوصلہ شکنی قرار دیتے ہیں۔
صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟
پاکستان میں سولر انرجی کی ترقی تیزی سے ہوئی ہے۔ ملک میں ستمبر 2025 تک نیٹ میٹرڈ سولر کی صلاحیت تقریباً 6 اعشاریہ 8 گیگا واٹ تھی، جبکہ مجموعی طور پر سولر پینلز کی انسٹالڈ صلاحیت 27 سے 33 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس سال کے آغاز تک، تقریباً دو کروڑ سے زائد گھروں، کاروباری اداروں اور زرعی شعبوں میں سولر سسٹم لگے ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً 5 اعشاریہ 3 گیگا واٹ نیٹ میٹرڈ ہیں۔ یہ اضافہ 2024 اور 2025 میں درآمد کیے گئے 17 گیگا واٹ سولر پینلز کی وجہ سے ہے۔ سولر کی یہ ترقی ملک کی مجموعی بجلی کی پیداوار کا 20 فیصد حصہ بن چکی ہے، جو 2026تک مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لیے شہریوں نے سولر پینلز لگائے (فوٹو: اے ایف پی)
شمسی توانائی کے کاروبار سے وابستہ ماہر یاسر صدیقی کہتے ہیں کہ اس نئی پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر وہ صارفین ہوں گے جو سولر پینلز استعمال کر رہے ہیں یا لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’پرانی نیٹ میٹرنگ کے تحت، اضافی بجلی کی قیمت 26 سے 27 روپے فی یونٹ تھی جو بل میں مکمل آفسیٹ کرتی تھی۔ اب نیٹ بلنگ میں، گرڈ سے لی گئی بجلی مکمل قومی ٹیرف پر چارج ہو گی، جو تقریباً 50 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ ایکسپورٹ کی گئی بجلی 11 سے 13 روپے فی یونٹ پر کریڈٹ ملے گی۔ یعنی، ایک عام صارف جس کا پہلے بل تقریباً صفر تھا، اب اضافی یونٹس کے لیے زیادہ ادائیگی کرے گا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف ماہانہ 500 یونٹس استعمال کرتا ہے اور 300 یونٹس سولر سے پیدا کر کے گرڈ کو دیتا ہے، تو پہلے اس کا بل صرف باقی 200 یونٹس کا ہوتا تھا۔ اب، وہ مکمل 500 یونٹس کی قیمت ادا کرے گا اور 300 یونٹس کی کم قیمت پر کریڈٹ ملے گا، جس سے بل میں 5 سے 10 ہزار روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
خیال رہے کہ پرانے صارفین، جن کے سات سات سالہ کنٹریکٹس ہیں، وہ اپنے معاہدے کی مدت تک پرانی پالیسی پر رہیں گے لیکن اس کے بعد ان پر بھی نئی پالیسی لاگو ہو جائے گی۔ نئے صارفین کے لیے، یہ پالیسی فوراً نافذ ہے، یعنی سولر لگانے کا مالی فائدہ کم ہو گا۔
ماہرین کے مطابق حکومتی فیصلے سے سولر کی نئی تنصیبات میں کمی آ سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یاسر صدیقی کہتے ہیں کہ ’اگر صارفین اپنی پیدا کی گئی بجلی کو خود استعمال کریں اور کم سے کم گرڈ پر انحصار کریں تو پھر بھی لاگت میں بچت ممکن ہے، خاص طور پر بیٹری سٹوریج کے ساتھ۔ زرعی اور صنعتی صارفین زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کی بڑی صلاحیتوں کی وجہ سے ایکسپورٹ کا فرق زیادہ پڑے گا۔‘
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی سے سولر کی نئی تنصیبات میں کمی آ سکتی ہے جو ملک کی ماحولیاتی اہداف کو متاثر کرے گی۔ تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام مجموعی طور پر بجلی کی لاگت کو کم کرے گا اور گرڈ کو مستحکم رکھے گا۔ جبکہ ماہرین، صارفین کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے سولر سسٹم کو سیلف کنزمپشن پر مرکوز کریں اور بیٹریاں استعمال کریں تاکہ ایکسپورٹ کم ہو۔