Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میچ تو بنگلہ دیش جیت گیا مگر بات کوہلی اور شرما میں پھنسی رہ گئی

ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں دلچسپ مقابلے کے بعد بنگلہ دیش نے انڈیا کو شکست دے کر کامیابی اپنے نام کر لی لیکن سوشل ٹائم لائنز پر وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے پرستاروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔
پہلے میچ میں انڈیا کو ایک وکٹ سے شکست دینے والے بنگلہ ٹائیگرز نے دوسرا میچ پانچ رنز سے اپنے نام کیا تو انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ کپتان کے فینز ایک مرتبہ پھر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کا موازنہ کرتے دکھائی دیے۔
زخمی ہونے کے باوجود نسبتا مشکل وقت میں روہت شرما کی جارحانہ بیٹنگ کا ذکر کرتے ہوئےمفضل بوہرہ نے لکھا کہ ’زخمی انگوٹھے کے باوجود بیٹنگ کے لیے آنے کا مشکل فیصلہ کرنے اور کامیابی کی موہوم امید کے باوجود 28 گیندوں پر 51 رنز بنا کر روہت شرما انڈیا کو ہدف کے قریب لے آئے۔‘

جواب میں وراٹ کوہلی کے فینز نے ’یاد تو آتی ہو گی‘ کا طنز کیا تو موقف اپنایا کہ جس طرح ’کوہلی میچ فنش کرتے ہیں وہ ہر کسی کے بس کی بات کہاں۔‘
گفتگو نے یہ رخ مڑا تو کوہلی کے فینز کو کہا گیا کہ ’پاکی داماں کی حکایت اتنی بڑھائیں، اسی بنگلہ دیش نے 2015 میں بھی انڈیا کو ون ڈے سیریز میں شکست دی تھی اور کوہلی تین میچوں میں محض 49 رنز ہی بنا پائے تھے۔‘

ہوم سیریز میں انڈیا کو دوسری مرتبہ شکست دینے والی بنگلہ دیشی ٹیم کو سراہا گیا تو کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی بھی زیر بحث آئی۔
وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے فینز کے درمیان ہونے والی بحث دیکھ کر کچھ صارفین نے توجہ دلائی کہ بنگلہ دیشی ٹیم کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دینا آسان نہیں ہے۔

یہ موقف اپنانے والوں نے 2015 کے بعد سے مختلف ٹیموں کے خلاف بنگلہ دیشی ٹیم کی کارکردگی کا چارٹ پیش کیا جہاں ایک کے سوا سبھی سیریز بنگال ٹائیگرز کے نام رہیں۔

بدھ کو ہونے والے میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بنگلہ دیش نے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹیں کھو کر 271 رنز بنائے، جواب میں انڈین ٹیم 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز تک محدود رہی۔

شیئر: