Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’احتجاج میں اہلکاروں کو مارنے کا الزام‘، ایران میں ایک اور شخص کو پھانسی

مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے دوسرے شخص کو بھی پھانسی دے دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے سزائے موت کے اعلان کے ساتھ سرکاری ٹیلی ویژن پر ایسی فوٹیج بھی چلائی گئی ہے جس کے بارے میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ اس میں ایک شخص دو سکیورٹی اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرنے کے بعد بھاگ رہا ہے۔
مجید رضا رھنورد کو سرعام پھانسی دی گئی۔ اُن کا کیس ایک ماہ سے بھی کم وقت چلا۔ اُن پر مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کا الزام ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن ایرانی حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ ابھی تک کم سے کم چھ مظاہرین کو بند دروازوں کے پیچھے سماعت کرنے کے بعد سزائے موت دی جا چکی ہے۔
ایران میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب تک مظاہروں میں 488 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پورے ملک میں شدید احتجاج کا سلسلہ ستمبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب مہسا امینی نامی خاتون پولیس حراست میں ہلاک ہوئیں۔ ان کو حجاب مناسب طریقے سے نہ لینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ایک اور تنظیم کا کہنا ہے کہ ابھی تک 18 ہزار دو سو مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ایران کی میزان نامی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ مجید رضا رھنورد نے دو سکیورٹی اہلکاروں کو چاقو گھونپ کر قتل کر دیا تھا اور چار کو زخمی کیا تھا۔
ٹی وی پر چلائی جانے والی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص گلی میں ایک ایسے شخص دوسرے کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور اس کے گرنے کے بعد چاقو سے حملہ کرتا ہے۔
دوسری فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ وہی آدمی ایک اور شخص کو چاقو سے نشانہ بناتا ہے۔
سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والا شخص مجید رضا رھنورد تھا جو فرار ہو گیا تھا۔
میزان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارا جانے والا شخص بسیج کا رکن تھا جو پاسداران انقلاب کا ذیلی ادارہ ہے۔
بسیج کے اہلکاروں کو مظاہرین کی گرفتاری کے لیے تمام بڑے شہروں میں تعینات کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ایران میں اب تک 18 ہزار دو سو مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سرکاری ٹیلی ویژن کی ایڈٹ شدہ رپورٹ مجید رضا رھنورد کو پھانسی دیے جانے کے بعد چلائی گئی جس میں ان کو کورٹ روم کے اندر دیکھا جا سکتا تھا۔
ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ وہ بسیج کی جانب سے احتجاج کرنے والوں کو مارنے کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد غصے میں وہاں گئے تھے۔
میزان نے یہ دعوٰی بھی کیا ہے کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایران ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے جمعرات کو بھی ایک مظاہرہ کرنے والے کو سزائے موت دی گئی تھی۔

شیئر: