Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغان لڑکیوں کے یونیورسٹی جانے پر پابندی، ’فیصلے سے مایوسی ہوئی‘

امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کے ادوار میں افغان خواتین تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افغان خواتین کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر پابندی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے تاہم کہا ہے کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن کے دورے کے موقعے پر انہوں نے کہا کہ ’جو فیصلہ آج لیا گیا، مجھے اس سے مایوسی ہوئی ہے۔‘
لیکن انہوں نے کہا کہ ’اب بھی میرے خیال میں ہمارے مقصد تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ۔۔۔ خواتین کی تعلیم اور دیگر چیزوں کے حوالے سے بہت سی مشکلات کے باوجود۔۔۔ کابل کا راستہ ہے اور عبوری حکومت کے ذریعے ہے۔‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ کے وزیر خارجہ نے بھی طالبان کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بدھ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے افغانستان کے موجودہ حکام پر زور دیا کہ وہ ہر سطح پر تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنائیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’تعلیم سے انکار نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ملک کے مستقبل پر تباہ کن اثرات پڑیں گے۔‘
طالبان حکومت کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے اور اگلے حکم تک خواتین اب گھروں پر رہیں گی۔
امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ ان کو طالبان کے فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔
انہوں نے ٹویٹ کیا کہ اس فیصلے نے واضح طور پر بین الاقوامی برادری میں طالبان کو اپنی حکومت کے تسلیم ہونے کے مقصد سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ تعلیم کا حق بنیادی انسانی حق ہے اور طالبان کی ذمہ داری ہے کہ اس کی پاسداری کریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔

تعلیم کے حق کے لیے افغان خواتین نے مظاہرے بھی کیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

طالبان نے 90 کی دہائی میں اپنے پہلے دور حکومت میں خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی اور ان کو محرم کے بغیر گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔
دوسری مرتبہ اقتدار پر کنٹرول کے بعد بھی طالبان نے بتدریج نوے کی دہائی کے اقدامات پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
لڑکیوں کے سیکنڈری سکول جانے پر پابندی عائد ہے۔ خواتین عوامی مقامات پر بھی نہیں جا سکتیں اور محرم کے بغیر سفر پر بھی پابندی ہے۔
ٹوئٹر پر بھی صارفین اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ خواتین کے خواب بکھر رہے ہیں۔
برطانیہ کے پناہ گزینوں کے وزیر کی سابق مشیر شبنم نسیمی نے کہا ہے کہ خواتین کے سکول جانے پر پابندی کے تقریباً 17 مہینوں بعد طالبان نے خواتین کے یونیورسٹی جانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
انہوں نے اس فیصلے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں افغانستان واحد ملک ہے جہاں خواتین اور لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی ہے۔
پاکستان کے ناورے کے سابق سفیر اور افغانستان کے نمائندہ خصوصی جل گنر ایرکسن نے ٹویٹ کیا کہ ’افغانستان مستقبل میں کہاں سے خواتین ڈاکٹر، نرسز، اساتذہ اور دائیاں ڈھونڈے گا؟‘
امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کے ادوار میں خواتین اور لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔

شیئر: