Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچہ ’نامناسب الفاظ‘ بولنے لگے تو کیا کرنا چاہیے؟

بچہ اپنے اردگرد جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے (فوٹو: سیدتی)
بچہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو یقیناً خوشی کا لمحہ ہوتا ہے مگر جب ’نازیبا الفاظ‘ کسی خطرے سے نیاز ہو کر بولنا شروع کرتا ہے تو یہ یقیناً والدین کے لیے قدرے پریشانی کی بات ہے کیونکہ اس کے لیے لامحالہ ذمہ دار انہی کو ٹھہرایا جائے گا۔
سیدتی میگزین کی رپورٹ میں بچوں کے نامناسب الفاظ بولنے کی وجوہات بتانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کو کیسے روکا جائے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت کے ماہر عبداللہ نے انٹرویو میں اہم نکات کی نشان دہی کی ہے۔
بچہ برے الفاظ کہاں سے سیکھتا ہے؟
بچے کے اردگرد جو ہو رہا ہوتا ہے وہ اس کا تیزی سے مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے اور جو کچھ وہ سنتا ہے وہی بولنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اسے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے ایسا عموماً چار سے چھ سال کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کے سامنے نامناسب الفاظ بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بچہ بدتمیری پر کب اترتا ہے؟


نامناسب الفاظ بولنے پر بچوں پر تشدد سے گریز کریں اور پوچھیں یہ کہاں سے سیکھا (فوٹو: سیدتی)

یہ بات تو طے کہ بچہ جس ماحول میں رہ رہا ہوتا ہے ویسا ہی طرزعمل اپنا رہا ہوتا ہے۔
وہ نئے الفاظ سن کر ان کو دُہراتا رہتا ہے تاہم بچہ برے الفاظ کے بار بار استعمال اور بدتمیزی پر تب آتا ہے جب اس کو اپنی اہمیت کم ہونا کا احساس ہوتا ہے اور ایسا زیادہ تر تب ہوتا ہے جب خاندان میں نیا بچہ آ جائے اور پچھلے والے کو نظرانداز کیا جائے۔ ایسے میں وہ الفاظ دُہراتا ہے جو اس نے اس وقت لوگوں کو بولتے ہوئے دیکھا ہوتا ہے جب وہ غصے میں ہوتے ہیں۔

صفائی ستھرائی

ماہرین کہتے ہیں کہ بچے کو جس حال میں رکھا جاتا ہے الفاظ کا چناؤ بھی ویسا ہوتا ہے یعنی اگر ماں کسی بچے کے کپڑے تبدیل کرنے اور صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتی تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بچے کو شائستہ انسان نہیں بنانا چاہتیں۔

بچے کو خوشگوار ماحول دیں تاکہ اس کے اعتماد میں اضافہ ہو (فوٹو: سیدتی)

کیا کیا جائے؟

بچے کو زیادہ الزام دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر وہ نامناسب الفاظ بول رہا ہے تو اس کی وجہ اردگرد کا ماحول ہے۔ اس لیے بچے کو اس سے باز رکھنے کے لیے کبھی بھی تشدد کا استعمال نہ کریں۔
بچے سے پیار سے پوچھا جائے کہ اس نے یہ لفظ کہاں سے سیکھا اگر وہ بتاتا ہے کہ اس نے سکول میں کسی سے سنا تو اسے سمجھائیں کہ یہ بری بات ہے لیکن اگر وہ گھر کے کسی فرد کا بتائے تو اسے سمجھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے ماحول کو بھی بہتر کریں۔
اسی طرح اگر بچہ کسی دوسرے بچے کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ فلاں سے سنا تھا تو اس بچے کے گھروالوں کے علم میں لائیں۔

اہمیت کا احاس کم ہونے پر بچے توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے الفاظ بول سکتے ہیں (فوٹو: سیدتی)

خوشگوار ماحول

ٹیلی فون پر بات، شریک حیات کے ساتھ بحث یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں شائستہ زبان استعمال کریں، خصوصاً جب بچے موجود ہوں۔

تکرار

اگر آپ کا بچہ برے الفاظ بولنا بند نہیں کرتا اور گھر والوں کو مطلع کرنے کے باوجود اس کا دوست برے الفاظ استعمال کرتا ہے جس آپ کا بچہ بگڑ رہا ہے تو اس سے دوری ہی بہتر ہے کیونکہ ایک ماں کے لیے پورا معاشرہ تبدیل کرنا ممکن نہیں تاہم اپنے بچے کی درست تربیت اسی کو کرنا ہے۔
چار سے 10 سال تک کی عمر میں بچہ ہر سنے جانے والے لفظ کو بولنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اس کے سامنے اچھے الفاظ استعمال کریں۔

اگر بچے نے برے الفاظ کسی دوست سے سیکھے ہیں تو اُس کے والدین کو بھی مطلع کریں (فوٹو: سیدتی)

اچھا بولنے کی تربیت

اس کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ گھر میں جتنے بچے ہیں کاغذ پر اتنے ہی دل بنا کر دیوار پر لٹکائیں اور ان پر ان کے نام لکھیں۔
پھر بچوں سے کہیں کہ جو غلط لفظ بولے گا میں اس کے نام کے دل پر پنسل سے کالا نقطہ لگا دوں گی اور ضرورت پڑنے پر ایسا کریں بھی۔
تاہم بچے کے افسوس ظاہر کرنے اور معافی مانگنے پر اس کو مٹا دیں۔

شیئر: