Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘، نیوزی لینڈ کا چین سے تشویش کا اظہار

نانیا مہوتا کی رواں ہفتے بیجنگ آمد سنہ 2018 کے بعد نیوزی لینڈ کے کسی بھی وزیر خارجہ کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے چین سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تائیوان کے ساتھ بڑھتے تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو سنیچر کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نانیا مہوتا نے کہا کہ ان کی چینی وزیر خارجہ چن گینگ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے ’چیلجنگ ایشوز‘ پر بات کی، جن میں سنکیانگ میں انسانی حقوق، ہانگ کانگ میں آزادی اظہار رائے اور چین کا پیسیفک میں اثر و رسوخ شامل ہیں۔
نانیا مہوتا نے بیجنگ میں نیوزی لینڈ کے سفارت خانے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت کچھ ہے جس پر ہم اتفاق کر سکتے ہیں اور ہم نے کچھ چیلنجنگ مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں ہم متفق نہیں ہیں۔ ان میں انسانی حقوق کا معاملہ بھی شامل ہے جس کے حوالے سے ہم نے کچھ ایسے مسائل پر بات کی ہے جس پر ہم متفق نہیں ہیں۔‘
نانیا مہوتا کی رواں ہفتے بیجنگ آمد سنہ 2018 کے بعد نیوزی لینڈ کے کسی بھی وزیر خارجہ کا چین کا پہلا دورہ ہے۔
قبل ازیں ایک بیان میں نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کو کہا ہے کہ ان کی حکومت کو ’سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورتحال اور ہانگ کانگ میں حقوق اور آزادیوں کے خاتمے پر گہری تشویش ہے۔‘
انہوں نے یوکرین جنگ کے حوالے سے کہا کہ ’چینی وزیر خارجہ سے ملاقات میں انہوں نے یوکرین کے خلاف روس کی غیرقانونی اور بلااشتعال جارحیت پر نیوزی لینڈ کے موقف کو اجاگر کیا تھا۔‘
نانیا مہوتا نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے ’چین پر زور دیا کیا کہ وہ روس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے فوجیوں کا انخلا اور جنگ بندی کروائے۔‘

شیئر: