انڈین دارالحکومت دہلی کے علاقے جنتر منتر پر گزشتہ تین ہفتے سے زیادہ عرصے سے ایک بھوک ہڑتال جاری ہے جس میں شمالی انڈیا کے ہمالیائی علاقے لداخ کے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک بھی شامل ہیں۔
مختلف حلقوں کی جانب سے ان کی صحت پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے اور نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی اور سوناکشی سنہا سمیت متعدد بالی وڈ فنکاروں نے ان کی گرتی ہوئی صحت پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اسی دوران انڈیا میں یہ بحث بھی زوروں پر رہی ہے کہ آخر ’مسٹر پرفیکشنسٹ‘ عامر خان اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں حالانکہ فلم ’3 ایڈیٹس‘ میں ان کا ’رینچو‘ کا کردار سونم وانگچک سے ہی تو متاثر ہے۔
مزید پڑھیں
-
عامر خان کی یادگار فلم ’لگان‘ کی ریلیز کے 25 سال مکملNode ID: 905390
-
40 قدرتی ہیرے: عامر خان کی ’ون اِن اے ملین‘ شادی کی انگوٹھیNode ID: 906259
عامر خان نے اب اس اس حوالے سے اپنی وضاحت پیش کی ہے۔ لندن میں اپنی ایک فلم کے پریمیئر کے موقع پر عامر خان نے اس سوال کا جواب دیا جس نے برسوں سے فلمی شائقین کے درمیان بحث چھیڑ رکھی تھی۔
تقریب کے دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا فلم ’تھری ایڈیٹس‘ میں ان کا مشہور کردار ’رینچو‘ (فنسکھ وانگڑو) معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک سے متاثر تھا، تو عامر خان نے اس تاثر کو واضح الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ’غلط فہمی‘ قرار دیا۔
اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق عامر خان نے کہا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’تھری ایڈیٹس‘ کا مرکزی کردار براہِ راست سونم وانگچک کی زندگی پر مبنی تھا، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
ان کے مطابق یہ کردار کسی ایک حقیقی شخصیت کی نقل نہیں تھا بلکہ ایک تخلیقی تصور تھا جسے فلم کی کہانی کے مطابق تشکیل دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’سونم وانگچک کے لیے ان کے دل میں بے حد احترام ہے، لیکن کسی شخص کا احترام کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی فلمی کردار کی بنیاد بھی ہو۔‘
عامر خان نے اس موقعے پر سونم وانگچک کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ امید کرتے ہیں کہ سونم وانگچک جلد صحت یاب ہوں گے اور ان کی بھوک ہڑتال خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اختلافِ رائے اپنی جگہ لیکن انسانی جان اور صحت سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘

سنہ 2009 میں ریلیز ہونے والی راج کمار ہیرانی کی فلم ’تھری ایڈیٹس‘ نے نہ صرف باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کی بلکہ انڈیا کے تعلیمی نظام پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی۔
فلم میں عامر خان نے فُنسکھ وانگڑو عرف رینچو کا کردار ادا کیا، جو روایتی تعلیم کی بجائے تخلیقی سوچ، اختراع اور عملی علم پر یقین رکھتا ہے۔
فلم کی ریلیز کے بعد یہ تاثر عام ہوا کہ یہ کردار لداخ کے انجینئر، موجد اور تعلیمی اصلاحات کے علمبردار سونم وانگچک سے متاثر ہے۔ تاہم فلم کے تخلیق کاروں کی جانب سے مختلف اوقات میں اس بارے میں مختلف وضاحتیں سامنے آتی رہی ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق خود سونم وانگچک بھی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ’فنسکھ وانگڑو‘ نہیں ہیں۔
ان کے مطابق فلم کی تیاری کے دوران ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی اور وہ اس نسبت کو اپنی شناخت کا حصہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’وہ اس معاملے کو قانونی تنازع میں نہیں بدلنا چاہتے تھے کیونکہ اس سے غلط پیغام جاتا۔‘ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’میں سونم وانگچک ہی ہوں۔‘
عامر خان کے تازہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر اس موضوع پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلمی کردار اکثر مختلف حقیقی شخصیات اور مصنف کے تخیل کا امتزاج ہوتے ہیں، اس لیے انہیں کسی ایک فرد سے منسوب کرنا درست نہیں۔
دوسری جانب بعض لوگوں نے پرانے انٹرویوز اور ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ کردار اگرچہ مکمل طور پر سونم وانگچک پر مبنی نہیں بھی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت اور کام سے متاثر ہونے کے آثار ضرور دکھائی دیتے ہیں۔
ادھر فلمی حلقوں میں ایک اور وجہ سے بھی ’3 ایڈیٹس‘ کا چرچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راج کمار ہیرانی اس فلم کے سیکوئل پر کام کر رہے ہیں اور عامر خان بھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں کہ کہانی پر پیش رفت جاری ہے، اگرچہ سکرپٹ کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

لندن کے اس پریمیئر میں عامر خان کے مختصر مگر دوٹوک بیان نے ایک ایسی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو تقریباً ڈیڑھ دہائی سے جاری ہے۔
تاہم ایک بات واضح ہے کہ چاہے ’رینچو‘ کا کردار کسی ایک حقیقی شخصیت سے متاثر ہو یا نہ ہو، اس کردار نے تعلیم، تخلیقی صلاحیت اور روایتی سوچ کو چیلنج کرنے کے حوالے سے لاکھوں ناظرین کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے، اور یہی اس فلم کی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
اس تقریب میں عامر خان کی سپر ہٹ فلم ’لگان‘ کے 25 سال پورے ہونے پر اس کی رونمائی بھی ہوئی جب کہ شرکا نے 3 ایڈیٹس پر بھی بات کی.












