Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف قرارداد منظور، ’فل کورٹ نظرثانی کرے‘

قرارداد میں کہا گیا کہ ’سپریم کورٹ کے چار جج صاحبان کے اکثریتی فیصلے کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ فیصلے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔ 
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلس میں قرارداد  بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی خالد حسین مگسی نے پیش کی۔ 
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے ’ایوان سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرتا ہے۔‘
قرارداد کے متن کے مطابق ’ 28 مارچ کو ایوان کی منظور کردہ قرارداد میں ازخود نوٹس کیس نمبر 1/2023 میں سپریم کورٹ کے چار ججز کے اکثریتی فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد اور اعلیٰ عدلیہ سے سیاسی و انتظامی امور میں مداخلت سے گریز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔‘
’اکثر حلقوں نے بھی فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ایک کے سوا دیگر سیاسی جماعتوں کا موقف ہی سنا گیا۔‘
قرارداد میں کہا گیا کہ ’پارلیمنٹ کی اس واضح قرارداد اور سپریم کورٹ کے چار جج صاحبان کے اکثریتی فیصلے کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے تین رکنی مخصوص بینچ نے اقلیتی رائے مسلط کردی جو سپریم کورٹ کی اپنی روایات، نظائر اور طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اکثریت پر اقلیت کو مسلط کر دیا گیا ہے، تین رکنی اقلیتی بینچ کے فیصلے کو پارلیمان مسترد کرتی ہے اور آئین وقانون کے مطابق اکثریتی بینچ کے فیصلے کو نافذ العمل قرار دیتی ہے۔‘
’یہ اجلاس آئین پاکستان کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر مقدمات کو فل کورٹ میٹنگ کے فیصلوں تک سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے کے عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی تائید کرتا ہے اور ایک ایگزیکٹو سرکلر کے ذریعے اس پر عملدرآمد روکنے کے اقدام کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ ایوان اُسی عدالتی فیصلے کو عجلت میں ایک اور متنازعہ بینچ کے روبرو سماعت کے لیے مقرر کرنے اور چند منٹوں میں اس پر فوری فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا عمل سپریم کورٹ کی روایات اور نظائر کے صریحاً خلاف ہے۔ لہذا یہ ناقابل قبول ہے۔‘

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ’یہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ’یہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ حالیہ اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔
لہذا، یہ ایوان ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے آئین اور قانون میں درج مروجہ طریقہ کار کے عین مطابق ملک بھر میں ایک ہی وقت پرعام انتخابات کے انعقاد کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے۔‘
 قرارداد کے مطابق ’یہ ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم اور کابینہ کوپ ابند کرتا ہے کہ اس خلافِ آئین و قانون فیصلے پر عمل نہ کیا جائے۔‘
’یہ ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمی کے فیصلے کے ذریعے ازسر نو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عدالت عظمی کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’عدلیہ کا احترام سب پر لازم ہے لیکن قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے‘ (فوٹو: اے پی پی)

سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور فل کورٹ بنائے: وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور الیکشن کے معاملے پر فل کورٹ بنائے، فل کورٹ کا فیصلہ ہمیں قبول ہو گا۔‘
 جمعرات کو لائرز کمپلیکس اسلام آباد کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت الیکشن سے نہیں بھاگ سکتی۔‘
’عدلیہ کا احترام سب پر لازم ہے لیکن قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، ہمیں پاکستان اور آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھنا ہو گا۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’وکلا نے عدل و انصاف کے حصول کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کیا ہے اور قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’63 اے کے قانون کو ری رائٹ کیا گیا، ہم نے اپیل دائر کی لیکن اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کو بھی فریق نہیں بنایا گیا۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’عدالت عظمیٰ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، جو ججز اس کیس سے الگ ہوئے تھے انہیں ہٹا کر فُل کورٹ بنایا جائے، فُل کورٹ کا فیصلہ ہمیں قبول ہو گا۔‘

شیئر: