Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سٹیو جابز سے مارک زکربرگ تک، ڈگری کے بغیر عروج پانے والے 10 بڑے نام

فیس بک اس وقت دنیا کی سب سے مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے (فوٹو: روئٹرز)
ڈگری ڈگری ہوتی ہے اور یقیناً اہمیت رکھتی ہے چاہے ملازمت کرنا ہو یا کاروبار، مگر دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈگری کامیابی کی حقیقی ضمانت نہیں ہوتی اور آج بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے ان کے نیچے کام کر رہے ہیں جبکہ وہ خود اس کام کی ڈگری نہیں رکھتے۔
عربی میگزین الرجل میں ایسے نو افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جس کام میں عروج تک پہنچے اس کی ان پاس کوئی ڈگری نہیں تھی۔

مارک زکربرگ

دنیا کے سب سے زیادہ مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے مالک مارک زکر برگ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

مارک زکر برگ نے 2004 میں فیس بک پر کام شروع کیا تھا (فوٹو: فیس بک)

وہ سکول کے دنوں سے ہی کمپیوٹر سے بہت لگاؤ رکھتے تھے اور انہوں نے 2004 میں اپنے بیڈروم سے فیس بک کے خیال پر کام شروع کیا تھا۔ تاہم یہ وہی ہیں جو اپنی گریجویشن مکمل نہیں کر پائے تھے۔
مارک زکر برگ اگرچہ ہارورڈ یونیورسٹی کے طالب علم تھے تاہم انہوں نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور کیلیفورنیا منتقل ہو گئے تھے جس کے بعد بھی اپنے پلیٹ فارم پر کام جاری رکھا اور وہ اس قدر مشہور ہو گیا کہ ان کو آگے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔
اس وقت مارک زکر برگ دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ 36 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو کہ ڈگری کے بغیر ان کے کامیاب کاروبار کی عکاسی کرتا ہے۔

رچرڈ برائسن

رچرڈ برائن بھی کاروبار کی دنیا کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ ان کو ’سر‘ کا خطاب بھی مل چکا ہے۔
ان کی شروعات بہت مشکل تھی، بچپن مشکلات میں گزرا کیونکہ انہی دنوں وہ ڈسلیکسیا کی بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے جس کی وجہ سے سکول چھوڑنا پڑا۔

رچرڈ برائسن کو ’سر‘ کا خطاب بھی دیا گیا (فوٹو: سی این بی سی)

تاہم ٹھیک ہونے کے بعد تعلیم کی طرف جانے کے بجائے انہوں نے موسیقی کے ریکارڈ فروخت کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ کام شروع کیا اور ’دی سٹوڈنٹ‘ کے نام سے جریدے کے لیے کام شروع کیا۔ پھر انہوں نے ریکارڈز فروخت کرنے والی دیگر کمپنیوں کے ساتھ کام کیا اور ’ورجن گروپ‘ کا آغاز کیا جو 400 سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ہے اور اس وقت ان کی دولت کا تخمینہ پانچ ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

سٹیو جابز

ایپل کمپنی کے مالک سٹیو جابز کو پڑھائی میں شروع سے مشکلات کا سامنا رہا لیکن اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ کم ذہین تھے۔ 1955 میں پیدا ہونے والے سٹیو جابز کا دل جلد ہی تعلیم سے اچاٹ ہو گیا اور انہوں نے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ باندھتے ہوئے کیلی فورنیا کی راہ لی۔

سٹیو جابز نے دوست کے ساتھ مل کر 70 کی دہائی کے آغاز میں ’ایپل‘ کمپنی کا آغاز کیا (فوٹو: ایپل)

یہ 70 کی دہائی کا آغاز تھا انہوں نے وہاں کے ریڈ کالج میں داخلہ بھی لیا تاہم پڑھائی کا سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور انہوں نے کالج چھوڑ دیا اور اپنے دوست سٹیو ووزنیاک کے ساتھ مل کر ایپل کمپنی کا آغاز کیا۔
اس سے قبل ان کے دوست کسی حد تک کمپیوٹر بنا چکے تھے دونوں نے مل کر ایپل ون ڈیوائس کے 50 یونٹ مقامی طور پر کچھ دکانداروں کو فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا جس کو 30 روز میں پورا کیا گیا۔
اس کے بعد کمپنی نے مزید ٹیکنالوجیز متعارف کروائیں۔  آج ایپل دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے اور سٹیو جابز اس کے صدر رہے ہیں۔
کچھ اندرونی مسائل کی وجہ سے سٹیوجابز نے ایپل کو چھوڑ دیا تھا جس کے بعد 1997 میں وہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ تاہم سٹیو کے دوبارہ جوائن کرنے کے بعد کمپنی کو پے در پے کامیابیاں حاصل ہوئیں اور آپریٹنگ سسٹم آئی ٹیونز، آئی پوڈ، آئی فون اور آئی پیڈ جیسی مصنوعات تیار کی گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سٹیو جابز کی موت کے وقت ان کی دولت 24 ارب ڈالر تھی۔

لیری ایلیسن

لیری ایلیسن کی پرورش ان کی خالہ نے کی۔ سکول کے بعد جب وہ یونیورسٹی پہنچے تو اوسط درجے کے طالب علم تھے تاہم امتحانات سے قبل ہی انہوں نے اچانک یونیورسٹی چھوڑ دی۔


لیری ایلیسن کو شروع سے ہی پروگرامنگ میں دلچپسی تھی (فوٹو: انسائیڈر ڈاٹ کام)

ان کو کمپیوٹر پروگرامنگ سے دلچسپی تھی۔ اس وقت یہ ایک نیا سبجیکٹ تھا مگر ان کے ذہن میں جو آئیڈیاز تھے ان پر کام شروع کر دیا اور ایمپیکس کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور سی آئی اے کے لیے ڈیٹا بیس تیار کیا۔ اس کے بعد وہ ایمپیکس سے الگ ہو گئے اور اوریکل کے نام سے اپنی الگ کمپنی بنائی۔

ابتدائی برسوں میں انہیں مشکلات کا سامنا رہا تاہم جلد ہی ان کی کمپنی بہترین ڈیٹا بیس سرور بنانے والے پلیٹ فارم کے طور پر ابھری اور کامیابی حاصل کی۔

آج ایلیسن کے پاس 56 ارب 20 کروڑ ڈالر کے اثاثے ہیں۔

جان مکی

70 کی دہائی میں ٹیکساس یونیورسٹی اور بعدازان ٹرینٹی یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران اگرچہ جان مکی کے شعبے کچھ اور تھے مگر ان کا رجحان قدرتی کھانوں کی طرف تھا۔ جس پر انہوں نے تعلیم ادھورا چھوڑ کر کام شروع کیا۔ جان مکی نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر سیفر وے کے نام سے کام شروع کیا۔


جان مکی نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر کھانے کی اشیا فراہم کرنے کا کام شروع کیا تھا (فوٹو: میڈیا بز)

 کام چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے سٹور کی شکل اختیار کر گیا پھر اس میں دیگر کمپنیوں نے انویسٹ کیا اور اس کا نام ’فوڈز مارکیٹ‘ رکھ دیا گیا۔

اب اس کمپنی کی امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ کئی ممالک میں چینز ہیں۔ ان کی دولت کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر ہے۔ جان مکی ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور مطمئن ہیں کہ انہوں نے جو کام شروع کیا وہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

جان مکی کہتے ہیں کہ وہ رقم اکٹھی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ زندگی سے لطف اندوز ہونے میں سکوں محسوس کرتے ہیں۔

مائیکل ڈیل

مائیکل ڈیل شروع سے ہی غیرمعمولی صلاحیت کے حامل تھے جو بچپن میں ہی نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔ انہوں نے بہت چھوٹی عمر میں سٹاک مارکیٹ اور قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کی اور صرف اس لیے’ایپل ٹو‘ کمپیوٹر خریدا تاکہ اس کو کھول کر اس کے اندر کی اشیا کا جائزہ لے سکے کہ دھاتوں کی بناوٹ کس انداز میں کی گئی ہے۔


مائیکل ڈیل نے کمپیوٹر اس لیے خریدا تھا کہ کھول کر دیکھ سکیں اس کے اندر کیا کچھ ہوتا ہے (فوٹو: میکسم ڈاٹ کام)

اس وقت وہ ٹیکساس یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے اور انہی دنوں انہوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر کمپیوٹر اپ گریڈز بنائیں اور ساتھی طلبہ کو فروخت کیں۔

اس کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ ان کی فیلڈ کچھ اور ہے اور یونیورسٹی چھوڑ کر اپنے گیراج میں ’ڈیل‘ کمپنی کی بنیاد رکھی اور وہی سے کام شروع کیا۔

آج ان کی کمپنی کا شمار دنیا کی چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

ٹائی وارنر

ٹائی وارنز کو شروع سے اداکاری کا شوق تھا جس کی وجہ سے انہوں نے مشی گن کے کالامازو کالج میں تعلیم کا سلسلہ ادھورا چھوڑا کیونکہ وہ شکاگو جا کر اداکاری کرنا چاہتے تھے۔


ٹائی وارنر بھی تعلیم چھوڑ کر کاروبار سے منسلک ہوئے تھے (فوٹو: فاربز ڈاٹ کام)

تاہم وہاں پہنچنے کے بعد انہیں خاصے مسائل کا سامنا رہا اور کھلونے بنانے والی ایک کمپنی میں کام شروع کیا جہاں سے انہیں بعدازاں نکال دیا گیا۔

اس پر انہوں نے خود کھلونے بنانے کا ارادہ کیا اور 1986 میں بینی بیبیز کے نام سے کھلونے متعارف کروائے جو بہت مقبول ہوئے۔ جس کے بعد ان کی کمپنی سے کئی مزید کمپنیاں نکلیں اور کاروبار اربوں ڈالر تک پہنچ گیا۔

تھیو ڈور وٹ

تھیو ڈور وٹ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جوتعلیم مکمل نہ کر سکے تاہم کمپیوٹر میں دلچسپی کی وجہ سے ان کی زندگی کا راستہ متعین ہو گیا۔ تھیو ڈور نے 1985 میں گیٹ وے کے نام سے کمپیوٹرز بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔


تھیو ڈور کو بچپن سے ٹیکنالوجی سے دلچسپی تھی (فوٹو: الرجل)

تھیو ڈور 2005 تک اس کمپنی کے سی ای او رہے جس کے بعد اس کو ایسر نے خرید لیا۔

تھیوڈور بھی اربوں ڈالر کی دولت کمانے میں کامیاب رہے۔

شیئر: