’آپ کا ڈیٹا محفوظ نہیں‘، چینی اے آئی کے خلاف امریکہ کی لاکھوں ڈالر کی مبینہ پیڈ مہم
’آپ کا ڈیٹا محفوظ نہیں‘، چینی اے آئی کے خلاف امریکہ کی لاکھوں ڈالر کی مبینہ پیڈ مہم
ہفتہ 2 مئی 2026 16:53
اس مہم کے پیچھے ’بلڈ امریکن اے آئی‘ نامی ایک گروپ ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ اب صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں یا حکومتوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سوشل میڈیا بھی اس جنگ کا اہم میدان بن چکا ہے۔
’میٹاڈو وائرل‘ کے مطابق امریکہ میں ایک ملٹی ملین ڈالر مہم چل رہی ہے جس کے تحت انفلوئنسرز کو پیسے دے کر عوام کی رائے متاثر کی جا رہی ہے، وہ بھی بغیر یہ بتائے کہ اصل میں پیغام کے پیچھے کون ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ’وائرڈ‘ میگزین نے رپورٹ کیا کہ اسے خود ایک مارکیٹنگ ایجنسی نے اس مہم میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔
اس کے بعد دیگر کانٹینٹ کریئیٹرز نے بھی ایسے ہی تجربات شیئر کیے ہیں جس میں پیسوں کے عوض مخصوص اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم چلانے کا بتایا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مہم کے پیچھے ’بلڈ امریکن اے آئی‘ نامی ایک گروپ ہے، جو ایک سپر پی اے سی ’لیڈنگ دی فیوچر‘ سے منسلک ہے۔ اس کے پاس کروڑوں ڈالر کا فنڈ موجود ہے اور اس کا مقصد امریکہ کی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو چین کے مقابلے میں فروغ دینا ہے۔
یہ مہم دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں لائف سٹائل انفلوئنسرز کو استعمال کیا گیا تاکہ وہ امریکی اے آئی کی اہمیت کو مثبت انداز میں پیش کریں۔ اس مہم کا دوسرا مرحلہ ابھی جاری ہے، جس کے تحت چین کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کچھ انفلوئنسرز کو ایک ویڈیو کے بدلے ہزاروں ڈالر تک کی پیشکش بھی کی گئی۔
انفلوئنسرز کو پہلے سے تیار شدہ سکرپٹس بھی دی جاتی ہیں، جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر چین اے آئی میں آگے نکل گیا تو امریکی شہریوں کا ڈیٹا اور روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ یہ پیغام روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران دیں تا کہ ان کے فالورز کے لیے یہ پیڈ کانٹینٹ نہیں بلکہ ان کی ذاتی رائے محسوس ہو۔
اگرچہ زیادہ تر پوسٹس کو ’ایڈ‘ کے طور پر لیبل کیا گیا، لیکن اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اصل فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے۔ یہی پہلو ماہرین کے نزدیک سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق یہ شفافیت کی کمی عوامی رائے کو خفیہ طور پر متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے میدان کی دوڑ نہایت سنجیدہ ہے (فائل فوٹو: اے آئی)
کچھ انفلوئنسرز نے اس مہم میں حصہ لینے سے انکار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی جیسے اہم موضوع کو سیاسی یا تجارتی مفادات کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔
یہ سارا معاملہ اس بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان اے آئی کی دوڑ نہایت سنجیدہ ہے۔ دونوں ممالک اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں اور یہی مسابقت اب عوامی بیانیے تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر سوشل میڈیا پر اس طرح کی غیر شفاف مہمات جاری رہیں تو یہ جمہوری اقدار اور معلومات کی سچائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف انفلوئنسرز بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور واضح شفافیت کو یقینی بنائیں۔
فی الحال ایک بات واضح ہے کہ اے آئی کی جنگ صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ہماری روزمرہ کی معلومات اور خیالات کو بھی شکل دے رہی ہے۔