انڈیا: ہر موسم میں زمین کی تصاویر لینے کیلئے نجی شعبے کا سب سے بڑا سیٹلائٹ لانچ
آپٹو سار سیٹلائٹ دراصل زمین کے مشاہدے کا ایک ایسا سیٹلائٹ ہے جو آپٹیکل امیجنگ اور مصنوعی اپرچر ریڈار کو یکجا کرتا ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
بنگلورو میں قائم ایک سٹارٹ اپ نے اتوار کو انڈیا کا سب سے بڑا نجی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹ اور زمین کی ہر موسم میں عکس بندی کے قابل پہلا سیٹلائٹ لانچ کر دیا۔
190 کلوگرام وزنی آپٹو سال سیٹلائٹ کو گلیکسی آئی نے اپنے مشن درشتی کے تحت تیار کیا۔ یہ انڈیا کے جدید ترین سیٹلائٹس میں شمار ہوتا ہے اور اسے کیلیفورنیا کے وینڈنبرگ سےسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اس کامیاب لانچ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انڈیا کے خلائی سفر میں ایک ’اہم کامیابی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے پہلے آپٹو سار سیٹلائٹ اور انڈیا کے سب سے بڑے نجی سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ نوجوانوں کے جذبۂ جدت اور قوم کی تعمیر کے عزم کا ثبوت ہے۔
آپٹو سار سیٹلائٹ دراصل زمین کے مشاہدے کا ایک ایسا سیٹلائٹ ہے جو آپٹیکل امیجنگ اور مصنوعی اپرچر ریڈار کو یکجا کرتا ہے۔
جہاں آپٹیکل سینسر دن کی روشنی اور صاف موسم میں ہائی ریزولوشن تصاویر لیتے ہیں، وہیں سار ٹیکنالوجی ریڈار سگنلز استعمال کرتی ہے، جس سے بادلوں، دھوئیں یا رات کے وقت بھی زمین کو ’دیکھنا‘ ممکن ہوتا ہے۔ ان دونوں ٹیکنالوجیز کا ایک نظام میں امتزاج زیادہ قابلِ اعتماد مشاہداتی ڈیٹا فراہم کرنے کی توقع ہے۔
یہ سیٹلائٹ، جو چند ہفتوں میں اپنی پہلی مشاہداتی معلومات بھیجنے والا ہے، انڈین سپیس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اے کے بھٹ کے مطابق انڈیا کے نجی خلائی شعبے کے لیے ایک نیا معیار قائم کرتا ہے۔
بھٹ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ انڈیا کے نجی خلائی شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک واضح ثبوت ہے اور چھوٹے پیمانے کے تجربات سے نکل کر خودمختار، ہر موسم میں نگرانی کی صلاحیتوں کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، جو قومی سلامتی اور آفات سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔‘
نجی شعبے کی شمولیت انڈیا کے اس منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے جس کے تحت وہ عالمی خلائی معیشت میں اپنے موجودہ 2 فیصد حصے کو 2033 تک تقریباً 8 فیصد تک بڑھانا چاہتا ہے، جس کی مالیت 450 ارب ڈالر ہے۔
2025 میں انڈیا میں 300 سے زائد فعال سٹارٹ اپس تھے جو راکٹ لانچز، سیٹلائٹس، زمین کے مشاہدے، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، پروپلشن، الیکٹرانکس، خلائی نگرانی اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
بھٹ نے کہا کہ گلیکسی آئی نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو دنیا کے چند ہی ادارے کر سکے ہیں، یعنی ایک ہی پلیٹ فارم پر آپٹیکل اور سار صلاحیتوں کو باآسانی یکجا کرنا تاکہ مسلسل، ہر موسم میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔
