’پورے جنوبی کوریا کی سالانہ وصولی سے بھی زیادہ وراثتی ٹیکس‘، سام سنگ خاندان کی تاریخی ادائیگی
’پورے جنوبی کوریا کی سالانہ وصولی سے بھی زیادہ وراثتی ٹیکس‘، سام سنگ خاندان کی تاریخی ادائیگی
منگل 5 مئی 2026 14:48
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
اسی دوران سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص میں ایک سال کے دوران 126 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا. (فوٹو: یون ہاپ)
جنوبی کوریا کے بڑے کاروباری گروپ سام سنگ کے مالک خاندان نے تقریباً 12 کھرب وون (تقریباً 8 ارب ڈالر) وراثتی ٹیکس کی ادائیگی مکمل کر لی ہے، جو ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی ادائیگی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ ادائیگی پانچ برسوں میں چھ اقساط کے ذریعے کی گئی، جس نے نہ صرف ٹیکس قوانین کی پابندی کی ایک مثال قائم کی بلکہ خاندان کے کاروباری کنٹرول کو بھی برقرار رکھا۔
کورین ہیرالڈ کے مطابق یہ ٹیکس آنجہانی چیئرمین لی کن ہی کی جانب سے چھوڑے گئے تقریباً 26 کھرب وون مالیت کے اثاثوں پر عائد ہوا، جن میں حصص، جائیداد اور قیمتی فن پارے شامل تھے۔
اپریل 2021 میں خاندان کے افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہوئے مؤخر ادائیگی کے پروگرام کے تحت چھ اقساط میں ادائیگی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس عمل میں لی جے یونگ، ان کی والدہ ہانگ را ہی اور بہنیں لی بو جن اور لی سیو ہیون شامل تھیں، جنہوں نے اس ٹیکس کو 'شہری ذمہ داری' قرار دیتے ہوئے مکمل ادائیگی کا عزم ظاہر کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں سام سنگ کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے متعلق میموری چپس کی عالمی طلب میں تیزی ہے۔
بلوم برگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق لی خاندان کی مجموعی دولت ایک سال میں تقریباً 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر سے زائد ہو گئی، جبکہ لی جے یونگ کی ذاتی دولت تقریباً 27 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کے باعث خاندان ایشیا کے امیر ترین خاندانوں میں دسویں نمبر سے تیسرے نمبر پر آ گیا۔
یہ ٹیکس آنجہانی چیئرمین لی کن ہی کی جانب سے چھوڑے گئے تقریباً 26 کھرب وون مالیت کے اثاثوں پر عائد ہوا۔ (فوٹو: روئٹرز)
اسی دوران سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص میں ایک سال کے دوران 126 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دو دہائیوں میں سب سے بڑی کارکردگی ہے۔
کوسپی انڈیکس بھی 6,600 کی سطح کے قریب پہنچ گیا، جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس کی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن نے ملکی معیشت میں اس کے کردار کو مزید بڑھا دیا۔
بتایا گیا ہے کہ گروپ کی سات بڑی ذیلی کمپنیوں کی مجموعی آمدن جنوبی کوریا کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 19 فیصد بنتی ہے، جبکہ صرف سام سنگ الیکٹرانکس ہی مارکیٹ ویلیو کا ایک بڑا حصہ رکھتی ہے۔
کورین ہیرالڈ کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود خاندان نے اپنے اہم کاروباری حصص بڑے پیمانے پر فروخت کرنے سے گریز کیا اور بعض صورتوں میں اپنے کنٹرول کو مزید مضبوط کیا۔
لی جے یونگ نے زیادہ تر ڈیویڈنڈ اور ذاتی قرضوں پر انحصار کیا جبکہ ان کا حصہ سام سنگ سی اینڈ ٹی میں نمایاں طور پر بڑھا، جو گروپ کی مرکزی ہولڈنگ کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح سام سنگ لائف انشورنس میں بھی ان کے حصص میں اضافہ دیکھا گیا۔
سام سنگ نے اتوار کو تصدیق کی کہ وراثتی ٹیکس کی آخری قسط ادا کر دی گئی ہے، اور بتایا کہ یہ رقم 2024 میں ملک کی مجموعی وراثتی ٹیکس وصولی کے تقریباً ڈیڑھ گنا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ خطیر رقم ریاستی خزانے میں جا کر فلاحی منصوبوں، صحت کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ ہوگی، اور لی کن ہی کی کامیابیوں کے اصل فائدہ اٹھانے والے عوام ہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خاندان نے فلاحی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 2021 میں 700 ارب وون نیشنل میڈیکل سینٹر کو عطیہ کیے گئے تاکہ متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے 150 بستروں پر مشتمل ایک خصوصی ہسپتال قائم کیا جا سکے، جو 2030 تک سیول میں مکمل ہوگا۔ اس کے علاوہ 300 ارب وون سیول نیشنل یونیورسٹی ہسپتال کو بچوں کے کینسر اور نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے دیے گئے، جس سے ہزاروں مریض مستفید ہو چکے ہیں۔
ثقافتی میدان میں بھی خاندان نے غیر معمولی عطیہ دیا، جس کے تحت 23 ہزار سے زائد فن پارے ریاست کے حوالے کیے گئے، جن میں قومی خزانے بھی شامل ہیں۔ اس مجموعے کی مالیت تقریباً 10 کھرب وون بتائی گئی، جبکہ “لی کن ہی کلیکشن” کی نمائشوں نے لاکھوں افراد کو اپنی جانب متوجہ کیا اور جنوبی کوریا کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق سام سنگ خاندان نے اس عمل کے ذریعے دولت کو معاشرے کو واپس لوٹانے کی روایت کو مضبوط کیا ہے، اور یوں لی کن ہی کا وہ نظریہ بھی عملی صورت میں نظر آتا ہے جس میں انہوں نے کاروباری اداروں کو صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنانے پر زور دیا تھا۔