Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوکرین کو ایف 16 طیاروں کی فراہمی، صدر بائیڈن نے حمایت کر دی

یوکرین کے صدر جاپان میں جی سیون کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ (فوٹو: اے ایف پئ)
صدر جو بائیڈن نے جی سیون کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ واشنگٹن ایف 16 جنگی طیاروں پر یوکرین کے پائلٹوں کو مشترکہ تربیتی پروگرام کے منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ کیئف روس کے خلاف اپنی فضائی طاقت بڑھانے کا خواہاں ہے۔
یوکرین کے پائلٹوں کو تربیت کے حوالے سے ایک امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکی ساختہ جنگی طیاروں کی تربیت یورپ میں ہو گی اور اس سے میں کئی مہینے لگیں گے۔
امریکی عہدیداروں مطابق طیاروں سے متعلق تربیت اور ترسیل کے لیے کم از کم 18 مہینے درکار ہے۔
امریکی عہدیدار نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے ہفتوں میں پائلٹوں کو ایف 16 سمیت فورتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کی تربیت دی جائے گی۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے اس سے ان کی فضائیہ مضبوط ہو جائے گی۔
یوکرین کے صدر جاپان میں جی سیون کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
یوکرین جس کے پاس مغرب کے تیار کردہ لڑاکا طیارے نہیں، نے کہا ہے کہ ایف 16 طیارے سابقہ سویت یونین کے لڑاکا طیاروں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔
یوکرین اب بھی روس کے خلاف جنگ میں سابقہ سویت یونین کے جنگی طیارے استعمال کر رہا ہے۔
پولینڈ اور سلوواکیہ نے یوکرین کو 27 ’مگ 29‘ طیارے فراہم کیے تھے۔
مغربی حکومتیں بہت زیادہ جنگی سازوسامان دے کر اپنے ہی ممالک کو غیرمحفوظ بنانے سے کترا رہے ہیں۔ وہ ایسی کوئی بھی چیز بھیجنے سے گریز کر رہے ہیں جو روس کی سرزمین کو نشانہ بنائے اور وہ ماسکو کو جوابی کارروائی کی وجہ دے سکے۔
رواں ہفتے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے برطانیہ اور نیدرلینڈز کے وزرائے اعظم نے ’جیٹس اتحاد‘ میں شامل ہونے سے متعلق وعدے کیے تھے اور کہا تھا کہ یوکرین کو لڑاکا طیارے فراہم کیے جائیں گے۔

شیئر: