Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس کی ملزمہ خدیجہ شاہ شناختی پریڈ کے لیے جیل منتقل

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کورکمانڈر ہاوس میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے الزامات میں گرفتار خدیجہ شاہ نامی ملزمہ کو سات روز کے لئے شناخت پریڈ کی غرض سے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا ہے۔
خدیجہ شاہ نے کئی روز روپوش رہنے کے بعد پولیس کو منگل گرفتاری دی تھی۔
انہیں دیگر دو خواتین کے ساتھ دوپہر 12 بجے کے قریب قیدیوں کی وین میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لایا گیا۔
عدالت میں کیس کی سماعت تاخیر سے ہونے کے سبب ان کو دو سے تین گھنٹے قیدیوں کی وین میں ہی رکھا گیا۔
اس دوران انہوں نے پولیس سے شکایت کی کہ وہ دمہ کی مریضہ ہیں۔ وین میں ان کا دم گھٹ رہا ہے جس کے بعد وین کی جگہ تبدیل کرتے ہوئے انہیں پانی بھی مہیا کیا گیا۔
پولیس نے خدیجہ شاہ کی تاخیر سے عدالت پیشی کی وجہ یہ بتائی کہ مقدمے کا تفتیشی افسر ہائی کورٹ میں ایک اور مقدمے میں مصروف ہے جس کی وجہ سے انہیں عدالت میں پیش ہونے تاخیر ہوئی۔
تفتیشی افسر کے آنے کے بعد انہیں کالے برقع میں عبہر گل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ان کے ساتھ ایک اور ملزمہ ہما سعید کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس نے استدعا کی کہ ان ملزمان کی شناخت پریڈ کا مرحلہ ابھی باقی ہے جس کے لیے انہیں جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیجا جائے اور پولیس کو شناخت پریڈ کے عمل کو مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت میں کیس کی سماعت تاخیر سے ہونے کے سبب ان کو دوگھنٹے قیدیوں کی وین میں ہی رکھا گیا۔ (فوٹو: اردو نیوز)

جیسے ہی خدیجہ شاہ عدالت میں پیش ہوئیں تو کمرہ عدالت میں پہلے سے موجود ان کے شوہر محمد جہانزیب نے عدالت سے استدعا کی انہیں اپنی اہلیہ سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ جس پر عدالت نے غیر متعلقہ افراد کو عدالت سے نکلنے کا حکم دیتے ہوئے میاں بیوی کو پانچ منٹ کے لیے ملاقات کی اجازت دے دی۔
بعد ازاں عدالت نے پولیس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کو سات روز کے لیے جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیجنے اور اس دوران پولیس کو شناخت پریڈ کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کردی۔
عدالتی سماعت کے بعد خدیجہ شاہ کے شوہر محمد جہانزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ کو دمہ کا مسئلہ ہے ان کو ادوایات کی بھی ضرورت ہے۔
’تین گھنٹے تک انہیں جیل وین میں بند رکھا گیا اور انہیں وقت پر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ جب عدالت میں پیش بھی کیا گیا تو ایک سیکنڈ میں واپس بھی لے آئے۔ ہماری درخواست ہے کہ ایسا نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
خدیجہ شاہ پاکستان کی ایک معروف فیشن ڈیزائنر ہیں جبکہ ان کی سیاسی پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ وہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی نواسی اور سابق وفاقی وزیر خزانہ سلمان شاہ کی صاحب زادی ہیں۔
پولیس کو وہ گزشتہ کئی روز سے کورکمانڈر ہاؤس حملے میں مطلوب تھیں تاہم وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش تھیں۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی 9 مئی کو گرفتاری کے بعد جب پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک بھر میں مظاہرے کیے تو لاہور کے مظاہروں میں خدیجہ شاہ بھی شریک تھیں۔

پولیس نے سلمان شاہ اور خدیجہ کے شوہر جہانزیب کو حراست میں لے لیا تھا۔ (فوٹو: سکرین گریب)

ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ لاہور کے لبرٹی چوک سے کور کمانڈر ہاؤس جانے والے افراد کے ساتھ تھیں۔ پولیس جیو فینسنگ نے ذریعے ہر اس شخص کو گرفتار کر رہی ہے جو اس وقت کورکمانڈر ہاؤس میں موجود تھا۔
فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے لاہور کینٹ میں موجود گھر میں پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھیں۔
پولیس نے سلمان شاہ اور خدیجہ کے شوہر جہانزیب کو حراست میں لے لیا تھا تاہم سلمان شاہ کو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز آف پاکستان نے خدیجہ شاہ کے گھر چھاپوں کے خلاف مذمتی بیان بھی جاری کیا تھا۔
پولیس گذشتہ ایک ہفتے سے خدیجہ شاہ کو گرفتار کرنے کے لیے کوشاں تھی تاہم وہ پولیس کی دسترس میں نہیں آئیں۔ پیر کو انہوں نے ایک آڈیو بیان جاری کیا تھا کہ وہ خود گرفتاری دینے کے لیے تیار ہیں ان کے خاندان کے افراد کو ہراساں نہ کیا جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ امریکی شہری بھی ہیں اور اس حوالے سے امریکی سفارتخانے سے بھی رابطے میں ہیں۔
خدیجہ شاہ نے یہ تو بتایا کہ کورکمانڈر ہاؤس احتجاج کے لیے گئی تھیں کیونکہ وہ عمران خان کی حمایتی ہیں البتہ انہوں نے جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے الزامات کی تردید کی تھی۔
اس سے پہلے عدالت نے ٹک ٹاکر صنم جاوید سمیت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 70 ملزمان کی شناخت پریڈ کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں چھ روز کی توسیع بھی کردی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے شناخت پریڈ کا عمل مکمل نہیں ہو سکا اس لیے مزید وقت دیا جائے۔
 

شیئر: