Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فواد چوہدری کی سیاسی منظر نامے پر واپسی ’نئی مائنس عمران خان پارٹی‘ کی طرف اشارہ؟

فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے سابق اور موجودہ رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔ (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے حال ہی میں علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی نے بدھ کو پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ وہ پارٹی کے دیگر سابق اور موجودہ رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کی علی زیدی، پرویز خٹک، اسد عمر، فرخ حبیب، عاطف خان اور شاہ محمود قریشی سے ’تفصیلی گفتگو‘ ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی کے سابق اور موجودہ رہنماؤں سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو مستحکم حل کی طرف جانا ہے۔ ہمیں حل نکالنا ہے، حل نکالنے کی طرف جائیں گے۔‘
تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں کی اچانک سیاسی منظر نامے پر واپسی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی موجودہ حالات پر تبصرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔
کئی افراد ایسی بھی ہیں جو فواد چوہدری کے تازہ بیان کو ’مائنس عمران‘ مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
عمر دراز گوندل لکھتے ہیں کہ ’جس طرح ایم کیو ایم نے الطاف حسین والی پریس کانفرنس کی تھی اور مائنس کیا تھا آج فواد چوہدری اور دیگر کی پریس کانفرنس عملی طور پر مائنس عمران کا اعلان تھا۔‘
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حامی ذیشان خان نیازی نے لکھا کہ ’فواد چوہدری کو پھر کہیں سے تھپکی مل گئی ہے کیا؟‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ عجیب مذاق ہے کہ پریس کانفرنس کرنے والوں کو اب کُھلی رعایت مل گئی ہے کہ وہ اپنے کیسز معافی مانگ کر بخشا لیں اور پھر کسی اور پلیٹ فارم پر ایک ہوکر حکومت کے خلاف محاذ کھول لیں۔‘
صحافی ریاض الحق کو بھی ایسا لگتا ہے کہ سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی میڈیا پر واپسی ’ایک نئی مائنس عمران خان پارٹی‘ کی طرف اشارہ ہے۔
شمس خٹک نامی صارف نے اس حوالے سے لکھا کہ ’پارٹی کے تمام رہنما اس بات پر قائل کریں کہ وہ موجودہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹیں، رضا کارانہ طور پر پارٹی چیئرمین شپ چھوڑیں یا صرف کسی اور کو وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر منتخب کریں۔‘
فواد چوہدری کے بیان کے جواب میں پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’میرا فواد چوہدری سے کوئی رابطہ نہیں۔‘
دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین حسین قریشی نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ان کے والد کسی عمران خان مخالف گروہ کا حصہ بن رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں زین حسین قریشی کا کہنا تھا کہ ’آج اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں سے شاہ محمود قریشی صاحب کی ملاقات پر میڈیا میں جو تاثر دیا جا رہا ہے میں اُس کی تردید کرتا ہوں۔ مخدوم صاحب پارٹی کے وائس چیئرمین ہیں اور پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، ہم تحریک انصاف اور عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
زین قریشی نے مزید لکھا کہ ’شاہ محمود قریشی نے آج تک صرف اصولوں اور خدمت کی سیاست کی۔ نہ کوئی عہدہ نہ کوئی لالچ شاہ صاحب کو خرید سکتی ہے۔ کل بھی عمران خان کے ساتھ تھے، آج بھی ہیں۔
خیال رہے فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے 9 مئی کو ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے تناظر میں پی ٹی آئی اور سیاست سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

شیئر: