Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں ’ٹارگٹ کلنگ‘، زیرِتعمیر گھر میں چھ مزدور قتل اور دو زخمی

پولیس اور ایف سی نے شہر کی ناکہ بندی کر کے ان کی تلاش شروع کر دی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے چھ مزدوروں کو قتل اور دو کو زخمی کر دیا۔
سنیچر کو حکام نے کہا ہے کہ ہلاک و زخمی افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔
کمشنر مکران ڈویژن سعید عمرانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا ہے جس میں کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔‘
کمشنر کے مطابق واقعہ کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب پیش آیا جہاں آٹھ مزدور ایک گھر کی تعمیر کے سلسلے میں موجود تھے۔
بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ میر علی مردان خان ڈومکی نے تربت واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ علاقے کے ایس پی کو معطل کر دیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشوں اور علاقے میں موجود ان کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر اور طیارے کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ 
ایس ایچ او تربت شیر جان بلوچ نے بتایا کہ ’مزدور گزشتہ چھ ماہ سے ایک گھر کی تعمیر کا کام کر رہے تھے وہ اسی گھر میں رات کو سوتے تھے۔‘
ایس ایچ او کے مطابق ’گزشتہ شب مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر آئے۔ انہوں نے مزدوروں کی شناخت معلوم کرنے کے بعد ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی اور گولیوں سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ’آٹھ مزدوروں میں سے چھ کی موت ہو گئی- دو زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔‘
پولیس کے مطابق ہلاک مزدوروں کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان اور اطراف کے علاقوں سے تھا۔
فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہو گئے۔ پولیس اور ایف سی نے شہر کی ناکہ بندی کر کے ان کی تلاش شروع کر دی۔
قبل ازیں نگراں وزیراعلٰی بلوچستان نے مزدوروں کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انتطامیہ سے رپورٹ طلب کر لی۔ ’واقعہ قابل مذمت ہے۔ بے گناہ مزردوں کے قتل پر دلی دکھ ہوا۔‘

مزدور ایک گھر کی تعمیر کا کام کر رہے تھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بلوچستان کے گورنر نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ دہشتگردی کے واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔
تربت اور اطراف میں اس سے قبل بھی غیرمقامی مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ ہو چکی ہے۔
اپریل 2015 میں تربت کے علاقے گوکدان میں مزدوروں کے ایک کیمپ پر  نامعلوم افراد نے حملہ کر کے 20 مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔
اسی طرح اسی ضلع کیچ میں جولائی 2012 میں 18 افراد اور نومبر 2017 میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے خواہشمند پنجاب کے 15 رہائشیوں کو پاک ایران سرحد کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

شیئر: