Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روس: اسرائیلی پرواز کی آمد پر داغستان میں ہجوم کا ایئرپورٹ پر دھاوا، 60 گرفتار

ہجوم میں شامل 60 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فوٹو: سکرین گریب
روس کے علاقے داغستان میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں افراد نے اتوار کو مرکزی ایئرپورٹ پر اس وقت دھاوا بول دیا جب تل ابیب سے ایک پرواز وہاں پہنچی۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور اے پی کے مطابق داغستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ہجوم میں شامل 150 سے زیادہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان میں سے 60 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایئرپورٹ پر موجود افراد یہود مخالف نعرے (اینٹی سیمیٹک) لگا رہے تھے اور مسافروں کو تلاش کر رہے تھے۔
روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ہجوم نے روسی کمپنی ریڈ ونگ کے طیارے کو گھیر لیا تھا۔ فلائٹ ریڈار کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سے پہنچنے والی ریڈ ونگز کی پرواز نے شام سات بجے ماخچکالا پہنچنا تھا۔
آزاد روسی میڈیا آؤٹ لیٹ سوتا نے کہا ہے کہ یہ ٹرانزٹ فلائٹ تھی جسے دو گھنٹے بعد ماسکو کے لیے روانہ ہونا تھا۔
حکام کو مسلم اکثریتی داغستان کے دارالحکومت ماخچکالا کے ایئرپورٹ کو بند کرنا پڑا اور پولیس کو بھی طلب کر لیا گیا تھا۔
داغستان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے۔
وزارت صحت نے مزید کہا ہے کہ زخمیوں میں پولیس اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہیں۔
روس کی سول ایوی ایشن ایجنسی روساویاتسیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایئرپورٹ کو کلیئر کر دیا گیا ہے تاہم چھ نومبر تک آنے والی پروازوں کے لیے بند رہے گا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہجوم فلسطینی جھنڈے لہرا رہے تھے اور کچھ پولیس کی گاڑیوں کو الٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیل سے پرواز پہنچنے پر سینکڑوں افراد نے دھاوا بول دیا تھا۔ فوٹو: سکرین گریب

ویڈیوز میں یہود مخالف نعرے بھی سنے جا سکتے ہیں جبکہ ہجوم میں موجود کچھ لوگ مسافروں کے پاسپورٹس بھی چیک کر رہے تھے۔
مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کے ہاتھ میں موجود پوسٹر پر لکھا ہوا تھا کہ ’داغستان میں بچوں کے قاتلوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
دیگر ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ عملے کی جانب سے روکنے پر ایئرپورٹ کے ٹرمینل پر موجود لوگ دروازے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سات اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حماس کے حملے میں 14 سو اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ 230 کو اغوا کیا گیا۔
غزہ میں امدادی اداروں اور وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی مسلسل بمباری سے آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مظاہرے میں 20 سے زائد افرد زخمی ہوئے ہیں۔ فوٹو: سکرین گریب

اتوار کی رات کو ایک بیان میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ’روسی قانون نافذ کرنے والے حکام سے توقع کرتے ہیں کہ تمام اسرائیلی شہریوں اور یہودیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور احتجاجی مظاہرین اور یہودیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس میں اسرائیلی سفیر اسرائیلوں اور یہودیوں کی حفاظت کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
روس کے شمالی کاکیشین فیڈرل ڈسٹرکٹ کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے حملہ آوروں کی شناخت کی جائے گی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کو ممکن بنایا جائے گا۔
داغستان کے مفتی اعظم شیخ احمد آفندی نے شہریوں سے پرامن رہنے اور اس طرح کے مظاہروں میں حصہ نہ لینے کی اپیل کی ہے۔

شیئر: