مونگے کی چٹانیں جدید طب میں کیسے انقلاب لا رہی ہیں؟
بحیرۂ احمر میں متعدد مرجان کی چٹانیں موجود ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
جدید ادویات کے لیے پانیوں میں نفع بخش حیاتیاتی مادوں کی تلاش کے دوران مرجان کی چٹانیں اہم حیاتیاتی وسائل فراہم کر رہی ہیں۔
ادویات کی ایسی تلاش میں جس طریقے کو استعمال کیا جاتا ہے اس ’بائیو پروسپیکٹنگ‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے وہ کیمیاوی مرکبات دریافت کیے جاتے ہیں جو پانی میں پانے جانے والے نامیوں یا جاندار مخلوقات میں میں ہوتے ہیں۔
بحیرۂ احمر میں کچھوؤں اور مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کی ’جنرل تنظیم‘ (ایس ایچ اے ایم ایس) کے مطابق سفنج اور نازک مرجان جیسے حیاتیاتی نامیے، منفرد دفاعی اور کمیونیکیشن کے نظام والے ان مرکبات کو جنم دیتے ہیں جن میں دواؤں والی اہم صلاحیت اور علاج کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔
کینسر، سوزش، بیکٹیریا اور وائرس کے انسداد اور ایسی بیماریوں سے نمٹنے کی خصوصیات رکھنے والے مرکبات کا گہرا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ سٹڈی میں یہ موضوع بھی شاملِ توجہ ہے کہ کیا ایسے مرکبات درد میں بھی کمی لا سکتے ہیں۔
اس مطالعے کے لیے نمونوں کو بہت احتیاط کے ساتھ اکٹھا کیا جاتا ہے اور ان کی خصوصیات کو علیحدہ علیحدہ کرنے کے لیے جدید ترین طریقِ کار استعمال ہوتا ہے تاکہ ایکٹیو اجزا کو دیگر مواد سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے۔
بعد میں ان مرکبات کو لیباریٹری میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ ان کے تحفظ اور اثر کے بارے میں تحقیق کی تصدیق کی جا سکے۔
مرجان کے ڈھانچوں سے نکالے جانے والے کیلشیئم کاربونیٹ کو کئی طبی ضرورتوں کے لیے پہلے ہی سے استعمال کیا جا رہا ہے جن میں ہڈیوں کی پیوندکاری کے لیے کی جانے والی سرجری خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔