انڈیا میں جہاں شادیاں اپنی شاہانہ تقاریب کی وجہ سے مشہور ہیں وہیں اب دلہنوں اور دُولہوں میں وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال ایک نیا ’شارٹ کٹ‘ بن کر ابھر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں واقع ’کلیرٹی سکن کلینک‘ جیسے طبی مراکز اب باقاعدہ ’مونجارو برائیڈ‘ پیکجز فروخت کر رہے ہیں۔
ان پیکجز میں جلد کی دیکھ بھال اور بالوں کے سٹائل کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے والے انجیکشنز کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
رات کو دیر سے سونے والوں کے لیے وزن کم کرنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟Node ID: 900702
سوشل میڈیا پر کلینک کی جانب سے دلہنوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ شادی کے روز دُبلا نظر آنے کے لیے مونجارو انجیکشن اور گائیڈڈ ڈائٹ کا سہارا لیں۔
ڈاکٹروں کے پاس دلہنوں کی قطاریں
روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے آٹھ مختلف ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کے پاس ایسی دلہنوں اور دولہوں کی بڑی تعداد آ رہی ہے جو شادی سے پہلے تیزی سے وزن گھٹانا چاہتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ طلب امریکی کمپنی ایلی للی کی دوا ’مونجارو‘ کی ہے جو شوگر اور موٹاپے دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
نئی دہلی میں ہینڈی وائن ہیلتھ کیئر کے بیریائٹرک سرجن رجت گوئل کہتے ہیں ’گزشتہ چند ماہ میں موٹاپے کے انجیکشنز سے متعلق آنے والے 20 فیصد سے زائد سوالات ان لڑکیوں کی طرف سے ہیں جن کی شادی ہونے والی ہے اور وہ ہمیں باقاعدہ ڈیڈ لائن دیتی ہیں کہ انہیں کتنے دن میں دبلا ہونا ہے۔‘
انڈیا میں شادی صرف دو افراد کا نہیں بلکہ خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے جہاں شکل و صورت اور مالی حیثیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔
ممبئی کی 26 سالہ ادتی (فرضی نام) نے اپنی فروری میں ہونے والی شادی سے پہلے 10 کلو وزن کم کرنے کے لیے مونجارو کا استعمال کیا۔
ادتی کہتی ہیں ’جب میں ورزش اور ڈائٹ سے وزن کم نہ کر سکی تو میں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ اب میں خود اعتمادی محسوس کرتی ہوں، میں اپنی شادی پر موٹی نہیں لگنا چاہتی تھی۔‘

زیادہ تر خواتین نے سماجی دباؤ اور شادی کے فوٹو شوٹ میں بہتر نظر آنے کی خواہش کو ان ادویات کے استعمال کی وجہ قرار دیا حالانکہ ان میں سے بیشتر نے شادی کے فوراً بعد انجیکشنز کا استعمال ترک کر دیا۔
ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں وزن کم کرنے والی ادویات کی مارکیٹ سنہ 2030 تک 80 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔
انڈیا میں مونجارو کی ماہانہ خوراک کی قیمت 13 ہزار سے 25 ہزار روپے کے درمیان ہے جبکہ نوو نورڈیسک کی ’ویگووی‘کی قیمت پانچ ہزار سے 16 ہزار روپے تک ہے۔

’محض خوبصورتی کے لیے استعمال خطرناک‘
طبی ماہرین اس رجحان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر سواتی پردھان کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی کوئیک فِکس یا فوری حل نہیں ہے۔ ہم صرف ان لڑکیوں کو یہ دوا تجویز کرتے ہیں جو طبی طور پر موٹاپے کا شکار ہوں، محض خوبصورتی کے لیے اس کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔‘
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی اکشیتا نے شادی سے پہلے 15 کلو وزن کم کیا جبکہ بنگلور کی پریا نے بتایا کہ انہیں کئی رشتوں میں محض وزن کی وجہ سے رد کیا گیا جس کے بعد انہوں نے ان ادویات کا سہارا لیا۔
انڈیا کے ڈرگ ریگولیٹر نے بھی ان ادویات کے غلط استعمال اور غیر قانونی فروخت پر سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔












