پاکستان نے ان خبروں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کسی ’بریک تھرو‘ یعنی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے مقامی میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں کی نشر و اشاعت میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی رسانی کے لیے ایک اہم ثالث یا ’گو بٹوین‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
اس جنگ نے نہ صرف عالمی سطح پر توانائی اور مال بردار جہازوں کی سپلائی کو متاثر کیا ہے بلکہ علاقائی معیشتوں کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
’قیاس آرائیوں سے گریز کریں‘
رواں ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہوا جس کا مقصد ایران پر جاری حملوں اور خلیج میں امریکی مفادات پر تہران کے جوابی حملوں کو مستقل طور پر رکوانے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
پاکستانی میڈیا کے ایک حصے نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سفارتی کوششیں دو بار بڑی کامیابی کے قریب پہنچ کر اس وقت ناکام ہوئیں جب تہران نے مزید مشاورت کے لیے وقت مانگا اور آخر کار مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
PR No./
Statement by the Spokesperson pic.twitter.com/oDVMDQi3RN
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 3, 2026
تاہم سنیچر کو ترجمان دفترِ خارجہ نے ان رپورٹس کو ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’علاقائی حساسیت کے اس دور میں سفارت کاری صوابدید اور ذمہ داری کی متقاضی ہے۔ ہم تمام میڈیا پلیٹ فارمز سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری بیانات پر ہی بھروسہ کریں۔‘
پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولا
دوسری جانب سفارتی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے کے لیے ’پاک چین پانچ نکاتی اقدام‘ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیجنگ اور اسلام آباد کی جانب سے پیش کردہ اس فارمولے میں فوری جنگ بندی، امن مذاکرات کا آغاز، سویلین اور تجارتی انفراسٹرکچر بشمول بحری راستوں کے تحفظ اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خطرناک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک ’پل‘ کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تاکہ عالمی معیشت اور علاقائی امن کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔












