نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ مگر ’ڈیمیجڈ‘ ہو چکے ہیں: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں مگر ’ڈیمیجڈ‘ ہو چکے ہیں۔
وہ ایران کے پچھلے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے ہیں جو امریکی و اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن پر ان کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار نے کے روز کہا تھا کہ وہ معمولی زخمی ہوئے اور وہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اتوار کو شوریٰ میں انتخاب کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای سامنے نہیں آئے ہیں اور جمعرات کو ان کا پہلا تبصرہ ٹی وی پریزینٹر نے پڑھ کر سنایا تھا۔
جمعرات کو فاکس نیوز کو رات گئے انٹرویو دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں (ڈیمجیجڈ) زخمی ہوئے ہیں، تاہم کسی طور زندہ ہیں۔‘
اپنے پہلے بیان میں مجبتیٰ خامنہ ای نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور پڑوسی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر امریکی اڈے بند کر دیں یا پھر ایران کے حملوں کا سامنا کریں۔
یہ جنگ اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کیے۔
دوسرے ہفتے تک پہنچنے والی جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے عالمی تجارتی منڈیاں بھی ہل کر رہ گئی ہیں، تاہم دوسری جانب ایران کے علاوہ امریکہ و اسرائیل کے رہنماؤں نے بھی لڑتے رہنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔