متحدہ عرب امارات کے نجی شعبے میں اماراتی خواتین کی نمائندگی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
وزارت انسانی وسائل و اماراتائیزیشن میں لیبر مارکیٹ کی ترقی، تنظیم کی نگراں اور بین الاقوامی تعلقات و ابلاغ کی معاون سیکریٹری شیما العوضی نے بتایا کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے اماراتی شہریوں کی تعداد ایک لاکھ 52 ہزار ہے جن میں سے ایک لاکھ 7 ہزار خواتین ہیں۔
الامارات الیوم کے مطابق شیما العوضی اماراتی خواتین کے حوالے سے منعقدہ فورم کے سیشن سے خطاب کر رہی تھیں جس کا موضوع ’خواتین: نجی شعبے میں محرک اور اماراتائیزیشن کا فروغ‘ تھا۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات 28 اگست کو اماراتی خواتین کا دن منا رہا ہے۔
شیما العوضی نے کہا کہ رواں برس لیبر مارکیٹ میں خواتین ورکرز کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں
-
امارات کا ورچوئل ورک ویزا غیر ملکی کیسے حاصل کریں؟Node ID: 699841
-
امارات میں ملازمت کے بغیر غیرملکیوں کے لیے اقامہ مگر کیسے؟Node ID: 700706
ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اماراتی خواتین ملک کی معیشت میں موثر اور مستحکم کردار ادا کررہی ہیں۔
تعلیمی شعبے میں کام کرنے والے اماراتی شہریوں میں سے 98 فیصد خواتین ہیں جبکہ نجی شعبے میں ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں خواتین کی شمولیت 61 فیصد ہے۔ طبی شعبے میں بھی خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
شیما العوضی کا کہنا تھا کہ خواتین کی موجودگی نہ صرف نجی کمپنیوں بلکہ شاپنگ مالز اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتی ہے۔ حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کئی پالیسیاں نافذ کی ہیں۔
نیا لیبر لا خواتین کو مختلف اقسام کی چھٹیوں، سہولتوں اور رہنمائی فراہم کرتا ہے جبکہ بے روزگاری انشورنس سکیم نے ان کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔ سیونگز سکیم نے خواتین کے لیے سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کیے ہیں۔