Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان، افغانستان اور امارات کے مابین سہ فریقی ٹی20 سیریز کا آغاز آج سے

سہ ملکی سیریز کو ایشیا کپ کی تیاری کے تناطر میں اہم سمجھا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایشیا کپ کی تیاریوں کے لیے پاکستان، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین سہ ملکی ٹی20 سیریز کا آغاز آج شارجہ میں ہونے جا رہا ہے۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق شروع میں پاکستان اور افغانستان نے تین میچوں کی سیریز کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم میزبان یو اے ای کی شمولیت کے بعد یہ ٹورنامنٹ ایک مکمل سہ ملکی سیریز کی صورت اختیار کر گیا۔
سہ ملکی سیریز کے تمام میچز شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے جو اپنی سست اور لو سکورنگ پچز کے باعث شہرت رکھتا ہے۔
اس سہ ملکی سیریز کو ایشیا کپ کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ تینوں ٹیمیں اگلے ماہ متحدہ عرب امارات ہی میں شیڈول ایشیا کپ میں شریک ہوں گی، تاہم افغانستان اور پاکستان ایشیا کپ کے دو مختلف گروپس میں ہیں۔
پاکستان کی ٹیم اس وقت ایک نئے انداز میں میدان میں اُتر رہی ہے۔ ٹیم کے نئے کوچ مائیک ہیسن نے پچھلی تین سیریز میں جارحانہ بیٹنگ پر زور دیا تھا اور اس بار سینیئرز کے بجائے نوجوان بیٹرز کو موقع دیا ہے۔
بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے تجربہ کار بیٹرز کو ڈراپ کیا گیا ہے تاکہ پاور پلے میں زیادہ سٹرائیک ریٹ والے کھلاڑیوں کو آزمایا جا سکے۔
پاکستان نے حال ہی میں بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اس حکمت عملی سے کامیابیاں بھی حاصل کیں مگر ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست نے یہ بھی ظاہر کیا کہ سست وکٹوں پر یہ فارمولہ ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔
شارجہ میں وکٹیں انہی جیسی ہونے کا امکان ہے اس وجہ سے یہ سیریز پاکستان کی حکمت عملی کے امتحان کا باعث ہوگی۔
پاکستان کے پاس سپن بولنگ میں بھی اچھے آپشنز موجود ہیں۔ ابرار احمد، سفیان مقیم، محمد نواز اور کپتان سلمان علی آغا جیسے بولرز ٹیم کو اچھی سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ لیکن مائیک ہیسن کا زیادہ انحصار آل راؤنڈرز پر ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات سپیشلسٹ بولرز کم نظر آتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پاکستان کس امتزاج کے ساتھ میدان میں اترتا ہے۔

یو اے ای کے لیے یہ ٹورنامنٹ سب سے زیادہ اہم ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان اس سیریز میں اپنی خطرناک سپن بولنگ کے باعث سب سے زیادہ توجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ راشد خان، محمد نبی، مجیب الرحمان اور نوجوان نور احمد کسی بھی ٹیم کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔
شارجہ کی سست پچز ان کے حق میں جا سکتی ہیں تاہم افغانستان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس نے رواں برس تاحال کوئی ٹی20 انٹرنیشنل نہیں کھیلا البتہ ان کے کھلاڑی دنیا بھر میں مختلف لیگز کھیلتے رہے ہیں۔
اس سہ ملکی سیریز کے ذریعے افغانستان اپنی تیاری کو بہتر بنانا چاہے گا کیونکہ ایشیا کپ میں اسے مشکل گروپ کا سامنا ہے جس میں سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسی ٹیمیں شامل ہیں۔
عرب امارات کے لیے یہ ٹورنامنٹ سب سے زیادہ اہم ہے۔ مقامی کھلاڑیوں کو بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جو ان کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔
یو اے ای نے رواں برس بنگلہ دیش کے خلاف سیریز جیت کر سب کو حیران کیا تھا تاہم یوگنڈا میں ہونے والی سیریز میں ان کی کارکردگی اتنی متاثر کن نہیں رہی۔
کپتان محمد وسیم ان کے سب سے نمایاں بیٹر ہیں جن کا سٹرائیک ریٹ 155 سے زیادہ ہے جبکہ آصف خان مڈل آرڈر میں تیز سکور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سپنرز حیدر علی اور زوہیب زبیر سست کنڈیشنز میں یو اے ای کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کا سکواڈ

پاکستان کے سکواڈ میں سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوش دل شاہ، محمد حارث، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان مرزا، شاہین شاہ آفریدی اور سفیان مقیم شامل ہیں۔

افغانستان کا سکواڈ

افغانستان کے 17 رکنی سکواڈ میں راشد خان (کپتان)، رحمان اللّٰہ گرباز، ابراہیم زدران، درویش رسولی، صدیق اللّٰہ اتل، عظمت اللّٰہ عمرزئی، کریم جنت، محمد نبی، گلبدین نائب، شرف الدین اشرف، محمد اسحاق، مجیب الرحمان، اللہ غضنفر، نور احمد، فرید ملک، نوین الحق، فضل الحق فاروقی شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا سکواڈ

متحدہ عرب امارات کے سکواڈ میں علی شان شرافو، آصف خان، اتہان کارل ڈیسوزو، محمد وسیم (کپتان)، زوہیب خان، دھرو پراشر، ہارشت کوشک، محمد صغیر خان، اریانشاہ شرما، راؤل چوپڑا، حیدر علی، جنید صدیقی، محمد فاروق، محمد جواد اللہ اور محمد روحید شامل ہیں۔

 

شیئر: