Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جس روز ترمیم آئی اس دن آئین دفن ہو جائے گا‘، اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں ترمیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)
اپوزیشن رہنماؤں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے عہدیداروں نے 27ویں ترمیم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس روز آئی اس دن آئین دفن ہو جائے گا۔
اتوار کو محمود خان اچکزئی نے علامہ ناصر عباس اور مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں ترمیم کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی اور پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔
ان کے مطابق ’یہ پاکستان کی بنیادوں پر حملہ ہے جبکہ اس کے بارے میں عوام کو غلط تاثر دیا جا رہا ہے۔‘
اس موقع پر مصطفیٰ نواز کا کہنا تھا کہ ’دل اداس ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے یہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’شام کو یہ بات سامنے آئی کہ صدر مملکت کے عہدے کو فوجداری اور سول مقدمات سے تاحیات استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔‘
امصطفیٰ نواز کھوکھر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ آئینی عدالت کے تصور کو 73 کے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے 73 کے آئین کا ستون منہدم ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم کو اس کے مخالفت کرنا پڑے گی اور یہ صرف ہم پر لازم نہیں بلکہ ہر طبقے کو اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہیے۔‘
علاوہ ازیں نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی 27ویں ترمیم کی مخالفت کا اعلان کیا گیا ہے۔
اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ ترمیم کا مسودہ
 سینٹ میں پیش ہونے اور منظر عام پر آنے کے بعد نیشنل پارٹی نے اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت اور اس پر پارٹی کے ذمہ دار فورمز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ’27ویں آئینی ترمیم دراصل آئین کی بنیادی روح اور آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اس لیے اکثریتی رائے میں اس کو مسترد کیا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں 27ویں ترمیم کا مسودہ کابینہ سے منظوری کے بعد بِل کی صورت میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔

شیئر: