Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈاکٹر عارفہ سیدہ کا انتقال،’بے خوف عوامی مکالمے کی ایک پائیدار میراث چھوڑ گئی ہیں‘

ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نے تاریخ میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی (فوٹو: سوشل میڈیا)
کئی دہائیوں تک تدریس، تحقیق اور پالیسی سازی سے وابستہ رہنے والی معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی رہنما ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا 83 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔
سنہ 1942 میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نے تعلیمی شعبے کے ساتھ ساتھ انتظامی اور سماجی میدانوں میں بھی کردار ادا کیا۔
وہ نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن رہیں اور پنجاب کی نگران صوبائی کابینہ میں وزیر کے طور پر بھی شامل رہیں۔
اردو زبان، تاریخ اور تعلیم ان کے بنیادی میدان رہے۔ وہ مختلف قومی و بین الاقوامی سیمینارز میں شریک ہوئیں اور متعدد تحقیقی مضامین بھی لکھے، مختلف سماجی موضوعات پر ان کے لیکچرز سوشل میڈیا پر وائرل رہتے تھے۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال پر علمی اور تعلیمی حلقوں سمیت ان کے چاہنے والوں کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا جا رہا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ’ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی وفات پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔‘
سامرین خان نے عارفہ سیدہ کے انتقال کی خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈاکٹر عارفہ سیدہ، آپ کی روح کو سکون نصیب ہو۔ آج ایک عظیم شخصیت ہم سے رخصت ہو گئی۔ آپ کی روشنی ماند پڑ سکتی ہے مگر آپ کا اثر ہمیشہ قائم رہے گا۔ تعلیم، خواتین کے حقوق اور اردو ورثے کی ایک مضبوط آواز کے طور پر آپ نے علم و ہمت کی ایسی میراث چھوڑی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
صحافی نسیم زہرا نے لکھا ’دنیا ایک واقعی غیر معمولی انسان اور دانشور سے محروم ہو گئی ہے۔‘
صحافی عاصمہ شیرازی نے لکھا ’آج بے شک ہم گنج ہائے گراں مایہ سے محروم ہوئے۔ ڈاکٹر صاحبہ اللہ حافظ۔‘
صحافی حامد میر نے لکھا کہ ’عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال پوری پاکستانی قوم کے لیے نہیں بلکہ اولڈ راوینز کے لیے بھی بہت بڑا نقصان ہے۔‘
وفاقی وزیر احسن اقبال نے عارفہ سیدہ کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ پاکستان کی ایک ممتاز ماہرِ تعلیم، انسانی حقوق کی کارکن اور جرات مند دانشور تھیں جو 10 نومبر 2025 کو انتقال کر گئیں۔ وہ علم، سماجی جدوجہد اور بے خوف عوامی مکالمے کی ایک پائیدار میراث چھوڑ گئی ہیں۔‘

شیئر: