Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مدینہ کے قریب بس حادثہ میں 42 انڈین عمرہ زائرین جان سے گئے

اتوار کی رات مکہ، مدینہ ہائی وے پر ایک ٹریفک حادثے میں 42 انڈین عمرہ زائرین جان سے گزر گئے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ زائرین مکہ میں اپنے عمرہ کے مناسک مکمل کرنے کے بعد بس کے ذریعے مدینہ جا رہے تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق بس ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا اور بس ڈیزل سے بھرے ایک ٹینکر سے جا ٹکرائی۔ حادثے کے وقت کئی مسافر سو رہے تھے۔
ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ بس مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئی، جس کے باعث فوت ہونے والے افراد کی شناخت میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تین افراد مقامی اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔
انڈین سفارت خانے کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گزشتہ رات مدینہ کے قریب عمرہ زائرین کی بس کے المناک حادثے کے پیش نظر جدہ میں انڈین قونصلیٹ میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔‘
انڈین قونصل خانہ اور سفارتخانے کے حکام نے سعودی وزارتِ حج و عمرہ اور دیگر مقامی حکام سے رابطہ کیا ہے اور امداد کے لیے جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مدینہ میں پیش آنے والے اس حادثے پر انتہائی افسردہ ہوں جس میں انڈین شہری متاثر ہوئے۔ میری دعائیں اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔‘
نریندر مودی نے کہا کہ ’ریاض میں ہمارا سفارتخانہ اور جدہ میں قونصلیٹ ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے حکام سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔‘
مکہ، مدینہ شاہراہ آٹھ لین پر مشتمل ایک ایکسپریس وے ہے جہاں چھوٹی گاڑیوں کے لیے رفتار کی حد 140 کلومیٹر فی گھنٹہ اور بسوں کے لیے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
سعودی عرب سڑکوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے خطیر بجٹ مختص کرتا ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی فار روڈز نے گزشتہ سال ’روڈ کوڈ‘ کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد منصوبہ بندی، مرمت اور انفراسٹرکچر کی حفاظت بہتر بنانا ہے۔
اتھارٹی کا ہدف ہے کہ 2030 تک سڑکوں پر اموات کی شرح کو ہر ایک لاکھ افراد میں پانچ سے کم کیا جائے۔

شیئر: