پنجاب، خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات
پنجاب، خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات
اتوار 23 نومبر 2025 6:34
تمام حلقوں میں سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جبکہ بعض حلقوں سے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج بھی آ رہے ہیں۔
اتوار کو صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے سات حلقوں میں پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا۔
سات حلقوں میں لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی، مظفرگڑھ ، ہری پور اور ڈی جی خان کے مختلف حلقے شامل ہیں۔ پولنگ کے عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو تعینات کیا گیا۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی الیکشن میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
فیصل آباد میں پولنگ تاخیر سے شروع ہونے اور مظفر گڑھ میں فریقین کے درمیان جھگڑے کی اطلاع موصول ہوئی۔
ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیصل آباد کے حلقہ این اے 96 کے ایک پولنگ سٹیشن میں پولنگ کا عمل وقت پر شروع نہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔
’جب پولنگ سٹیشن نمبر 108 کے پریزائڈنگ افسر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔‘
پی پی 269 مظفرگڑھ کے کرم داد پولنگ سٹیشن پر دو فریقین کے درمیان جھگڑے کے باعث پولنگ چند منٹوں کے لیے روکنا پڑی تاہم ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل معمولی وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا۔
لاہور کا حلقہ این اے 129 اتنا اہم کیوں؟
ضمنی انتخابات میں سب سے دلچسپ مقابلہ لاہور کا سمجھا جا رہا ہے، جس سے اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ حکومت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن شہر پر اپنا سیاسی تسلط بحال کر پائی ہے یا نہیں۔
آج کے انتخابات میں لاہور کا حلقہ این اے-129 پنجاب کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ لاہور شہر کے مرکزی اور تاریخی علاقوں پر مشتمل اس حلقے میں شہری ووٹرز کی اکثریت ہے جہاں متوسط طبقے، تاجر برادری اور سیاسی خاندانوں کی مضبوط گرفت ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق این اے-129 لاہور کا ایک اہم حلقہ ہے کیونکہ یہ شہر کے مرکزی حلقوں پر مشتمل ہے، یہاں کی جیت کا براہ راست تعلق لاہور کی مجموعی سیاسی سمت سے ہوتا ہے۔
اس حلقے کی نشست سابق ایم این اے میاں محمد اظہر کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی جو سنہ 2024 کے عام انتخابات میں (پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ) آزاد امیدوار کی حیثیت سے 103,739 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔
میاں اظہر مسلم لیگ ق کے بانیوں میں سے تھے اور ان کے بیٹے حماد اظہر پی ٹی آئی کے رہنما ہیں۔
این اے-129 لاہور کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس میں درج ذیل اہم علاقے شامل ہیں: اسلام پورہ، سنت نگر اور آئی بی سی۔ یہ مرکزی رہائشی علاقے ہیں جہاں متوسط طبقے کی آبادی ہے اور اکثر یہاں سیاسی جلسے ہوتے ہیں۔
پنجاب میں قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی
اسی طرح انارکلی اور ہربنس پورہ تاریخی بازاروں اور تجارتی مراکز والے علاقے ہیں جہاں تاجر ووٹرز کی تعداد زیادہ ہے۔ شاد باغ اور بیگم پورہ کے علاقے بھی اسی حلقے کا حصہ ہیں۔ یہ حلقہ تقریباً چار لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز پر مشتمل ہے۔
آج کے ضمنی انتخابات مختلف وجوہات کی بنا پر خالی ہونے والی نشستوں کو پُر کرنے کے لیے منعقد کیے گئے ہیں۔ سنہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد اتنی بڑی تعداد میں ہونے والے یہ پہلے ضمنی انتخابات ہیں۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو کوئیک ری ایکشن فورس کی حیثیت سے تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تعیناتی 22 سے 24 نومبر تک ضمنی انتخابات والے حلقوں میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہو گی۔
یہ انتخابات پنجاب کی سیاسی کشمکش کی عکاسی بھی کریں گے جہاں مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی جماعتیں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی ابھی بھی جماعت کے طور پر اپنے انتخابی نشان سے محروم ہے۔