احتجاج طلبہ کا حق مگر ریڈ لائنز کو سمجھنا چاہیے: ایرانی حکومت
احتجاج طلبہ کا حق مگر ریڈ لائنز کو سمجھنا چاہیے: ایرانی حکومت
منگل 24 فروری 2026 12:51
حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ طلبہ کا غصہ قابل فہم ہے (فوٹو: ارنا)
ایران کی حکومت نے یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے نکالی جانے والی ریلیوں پر پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ احتجاج کا حق رکھتے ہیں تاہم سب کو ریڈ لائنز کو سمجھنا چاہیے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ’مقدس چیزیں اور جھنڈا ان سرخ لکیروں کی مثالیں ہیں جن کی ہمیں حفاظت کرنی چاہیے اور انتہائی برہمی کی حالت میں بھی ان سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایرانی طلبہ کے دل دکھی ہیں اور انہوں نے ایسے مناظر دیکھے ہیں جنہوں نے ان کو پریشان اور ناراض کیا اور یہ غصہ قابل فہم ہے۔‘
ایران میں یونیورسٹی کے طلبہ نے سنیچر کو حکومت کے حق اور مخالفت میں ریلیاں نکالنے کا سلسلہ شروع کیا اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان میں ویسے ہی نعرے سننے کو ملے جو جنوری میں عروج تک پہچنے والے ملک گیر احتجاج کے دوران سامنے آئے تھے اور ان میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
اس احتجاج کا سلسلہ دسمبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب شہری معاشی پریشانیوں کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور پھر آٹھ اور نو جنوری تک یہ مظاہرے بڑھتے ہوئے پورے ملک تک پھیل گئے تھے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے امریکی ادارے ہرانہ کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں سات ہزار سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایران میں دسمبر میں مہنگائی کے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب ایرانی حکام مظاہروں میں تین ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تشدد کی یہ آگ امریکہ اور اسرائیل کے ’دہشت گردانہ اقدامات‘ کی وجہ سے بھڑکی۔
مہاجرانی نے منگل کے روز بتایا کہ تحقیقات کرنے والا ادارہ احتجاج کی ’وجوہات اور عوامل‘ کو تلاش کر رہا ہے اور اس کے بارے میں رپورٹ پیش کرے گا۔